پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 'کیو آر پینک بٹن سسٹم' (QR panic button system) کو فعال کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سفر کے دوران ہراساں کیے جانے یا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مسافروں کو فوری مدد فراہم کرنا ہے۔
کیو آر پینک بٹن سسٹم کیسے کام کرتا ہے
پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت کے لیے حکومت نے بسوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں ان ڈیجیٹل سیکیورٹی آلات کی تنصیب کا عمل تیز کر دیا ہے۔ مسافر گاڑی میں موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے فوری طور پر مرکزی مانیٹرنگ سسٹم سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں، جس سے حکام کو مسافر کی لوکیشن اور صورتحال کا فوری علم ہو جاتا ہے۔
- گاڑی کے اندر نمایاں جگہ پر لگے کیو آر کوڈ اسٹیکر کو تلاش کریں۔
- اپنے اسمارٹ فون کے کیمرے سے کوڈ کو اسکین کریں۔
- سسٹم خود بخود آپ کی لوکیشن کنٹرول سینٹر تک پہنچا دے گا۔
- سیکیورٹی ٹیمیں فوری طور پر گاڑی کی درست لوکیشن پر مدد کے لیے روانہ کی جائیں گی۔
مسافروں کی حفاظت میں اضافہ
یہ منصوبہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سیکیورٹی اور خواتین کو ہراساں کیے جانے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر شروع کیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کو ٹرانسپورٹ کے نظام سے جوڑ کر حکومت پولیس اور ایمرجنسی سروسز کے رسپانس ٹائم کو کم کرنا چاہتی ہے۔ فی الحال یہ سسٹم اہم روٹس پر نصب کیا جا رہا ہے، تاہم حکومت کا ارادہ ہے کہ اسے پنجاب بھر کی تمام پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں تک پھیلایا جائے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں، تو بس میں سوار ہوتے ہی کیو آر کوڈ اسٹیکر کو دیکھیں۔ ہنگامی صورتحال پیش آنے سے پہلے اسکین کرنے کے عمل کو سمجھ لیں۔ اگر آپ کو کسی ایسی گاڑی میں سفر کرنا پڑے جہاں یہ حفاظتی اسٹیکر موجود نہ ہو، تو آپ کو متعلقہ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو اس کی شکایت کرنی چاہیے، کیونکہ ہر پبلک گاڑی میں یہ فیچر نصب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
آگے کیا ہوگا
اس سسٹم کے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ اور نجی رائیڈ شیئرنگ سروسز تک پھیلاؤ کے حوالے سے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ حکومت آنے والے مہینوں میں اس سسٹم کی کارکردگی اور رسپانس ٹائم کے اعداد و شمار جاری کرے گی۔ اگر یہ پائلٹ پروجیکٹ مجرمانہ واقعات کو کم کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو تمام ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے اس کی تنصیب کو مزید سختی سے لاگو کیا جائے گا۔
