پنجاب حکومت صوبے بھر میں خواتین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے نئی قانون سازی کا عمل شروع کرنے جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آج لاہور میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نٹالی اے بیکر سے ملاقات کے دوران ان قانونی اصلاحات کو بااختیار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قانونی اصلاحات
اگرچہ مجوزہ قانون سازی کی تفصیلات پر ابھی کام جاری ہے، لیکن وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے جو خواتین کی معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایک ایسا محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے جہاں خواتین بلا خوف و خطر اپنے آئینی حقوق استعمال کر سکیں۔
امریکی سفیر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ یہ اصلاحات صوبائی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد مقامی قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے تاکہ دیہی اور شہری علاقوں کی خواتین کو کام کی جگہوں اور گھریلو معاملات میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
صوبائی حکومت کی ترجیحات
- گھریلو تشدد کے خلاف موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا۔
- پسماندہ اضلاع میں خواتین کے لیے مفت قانونی امداد کی فراہمی۔
- کام کی جگہوں پر ہراسانی کی شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتر بنانا۔
- خصوصی حکومتی اسکیموں کے ذریعے خواتین کی مالی آزادی کو فروغ دینا۔
حکومت کا ہدف ان اصلاحات کے ذریعے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانا ہے۔ قانونی عمل کو آسان بنا کر انتظامیہ چاہتی ہے کہ خواتین کو باوقار روزگار کے مواقع تک رسائی حاصل ہو، جو کہ موجودہ حکومت کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
جوں جوں یہ بل پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے، شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حکومتِ پنجاب کی سرکاری ویب سائٹ پر نظر رکھیں۔ ان اصلاحات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مقامی پولیس اور عدالتی حکام ان نئے قوانین پر کس طرح عمل درآمد کرتے ہیں۔
قانونی معاونت کے خواہشمند افراد کو محکمہ ترقی نسواں پنجاب (Women Development Department) کے اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ امید ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی تاکہ خواتین اپنے حقوق سے پوری طرح واقف ہو سکیں۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے nayapakistan.pk کے ساتھ جڑے رہیں۔
