پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں عید میلاد النبی کے پرامن اور منظم انعقاد کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ساتھ باضابطہ مشاورتی عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر لاہور کے محکمہ داخلہ میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

ان اہم اجلاسوں کا مقصد جلوسوں کے روٹس، سیکیورٹی کے انتظامات اور انتظامی امور کو بہتر بنانا ہے۔ صوبائی حکام کا ہدف اس مقدس مہینے کے دوران بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینا اور تمام انتظامی رکاوٹوں کو بروقت دور کرنا ہے۔

پنجاب حکومت کی علمائے کرام سے ملاقاتیں

محکمہ داخلہ میں ہونے والے ان اجلاسوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال، اجتماعات کے اوقات اور مقررہ جلوس کے راستوں سے متعلق معیاری ضابطہ کار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان حفاظتی اقدامات کا مقصد کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے نمٹنا اور منتظمین کے ساتھ رابطے کو موثر بنانا ہے۔

انتظامیہ اور علماء اس بات پر اتفاق کر رہے ہیں کہ لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے تاکہ عید میلاد کے اجتماعات شایان شان طریقے سے منعقد ہو سکیں.

امن کمیٹیوں اور منتظمین کے لیے ہدایات

ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد باہمی بات چیت کے ذریعے تمام امور کو خوش اسلوبی سے طے کرنا ہے۔ مختلف مذہبی پس منظر کے نمائندوں نے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے مقدس ایام میں اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا ہے۔

  • صوبائی حکام کی جانب سے باقاعدہ مذاکراتی سیشنز
  • مقامی امن کمیٹیوں کی فعال شرکت
  • سیکیورٹی فریم ورک اور نفری کے تعین کا جائزہ

صوبائی حکومت نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی سطح پر امن کمیٹیوں اور جلوس کے منتظمین کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ اپنے علاقے میں عید میلاد کا کوئی جلوس، محفل یا اجتماع منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو متعلقہ تھانے اور ضلعی انتظامیہ سے بروقت رابطہ کریں تاکہ اجازت نامے اور روٹس کی منظوری بروقت حاصل کی جا سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

آنے والے دنوں میں محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والی ٹریفک ایڈوائزری، سیکیورٹی پلانز اور ضابطہ اخلاق کی تازہ ترین تفصیلات پر نظر رکھیں۔