پنجاب حکومت صوبے بھر میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کسانوں کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے۔ کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سلمیٰ بٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی انتظامیہ زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی۔
پنجاب کسانوں کی فلاح و بہبود اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
پائیدار ترقی کے حصول کے لیے حکومت کاشتکاری کے روایتی طریقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے بدلنے پر کام کر رہی ہے۔ کنونشن میں شریک ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اب جدید مشینری اور درست زرعی طریقوں (precision agriculture) کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت کی حکمت عملی میں کسانوں کو جدید آلات اور ڈیجیٹل ٹولز تک آسان رسائی فراہم کرنا شامل ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔
- موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیجوں کا فروغ۔
- پانی کی بچت کے لیے ڈرپ ایریگیشن سسٹم کا نفاذ۔
- چھوٹے کسانوں کے لیے جدید کٹائی کی تکنیکوں پر تربیتی پروگرام۔
منڈیوں تک منصفانہ رسائی اور پالیسی سپورٹ
ٹیکنالوجی کے علاوہ، بحث کا مرکزی نکتہ کسانوں کو منڈیوں تک منصفانہ رسائی فراہم کرنا تھا تاکہ ان کی محنت کا پورا صلہ مل سکے۔ طویل عرصے سے کسانوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ مڈل مین کا استحصال رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا۔ سلمیٰ بٹ نے واضح کیا کہ حکومت ایسی پالیسیاں ترتیب دے رہی ہے جن سے سپلائی چین کو بہتر بنایا جائے گا اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی درست قیمت ملے گی۔
اس پالیسی کا مقصد ایک ایسا شفاف نظام تشکیل دینا ہے جہاں قیمتوں میں استحکام آ سکے۔ کسانوں کے منافع میں اضافے سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
کسانوں کے لیے آگے کیا ہے؟
اگر آپ زرعی شعبے سے وابستہ ہیں، تو آپ کو صوبائی بجٹ میں زراعت کے لیے مختص کردہ سبسڈی اور ٹیکنالوجی گرانٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ توقع ہے کہ حکومت آنے والے مہینوں میں مشینری اور تکنیکی معاونت کے لیے کسانوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کا اعلان کرے گی۔
پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور تربیتی ورکشاپس کے بارے میں معلومات کے لیے محکمہ زراعت پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ کو باقاعدگی سے وزٹ کرنا مفید رہے گا۔ جیسے جیسے یہ پالیسیاں نافذ ہوں گی، حکومت کی توجہ غذائی سپلائی چین کو مستحکم کرنے اور زراعت کو بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنے پر مرکوز رہے گی۔
