پاکستان میں جاری افغان ریپیٹریشن پروسیس (افغان باشندوں کی واپسی کا عمل) ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے، جس کے تحت پنجاب حکومت نے تصدیق کی ہے کہ 2023 کے آخر میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف شروع کی گئی ملک گیر مہم کے بعد سے اب تک تقریباً 27 لاکھ افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔

یہ بڑی تعداد میں انخلا وفاقی حکومت کے اس فیصلے کے بعد عمل میں آیا جس میں پاکستان میں مقیم 'غیر قانونی تارکین وطن' کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں غیر دستاویزی افراد کی موجودگی کو ختم کرنا اور امیگریشن قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔

واپسی کے عمل کی تفصیلات

صوبائی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اس آپریشن کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مہم پورے ملک میں چلائی گئی، لیکن پنجاب اس حوالے سے نگرانی اور انخلا کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ واپس جانے والوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے درکار قانونی دستاویزات موجود نہیں تھے۔

حکومتی اداروں نے بارڈر مینجمنٹ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ واپسی کا عمل منظم طریقے سے مکمل ہو۔ پاکستان میں دہائیوں سے مقیم بہت سے خاندانوں نے بھی سخت امیگریشن قوانین کے نفاذ کے پیش نظر اپنے وطن واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔

رہائشیوں کے لیے اہم ہدایات

اگر آپ کا تعلق ان برادریوں سے ہے جو اس پالیسی سے متاثر ہو رہی ہیں، تو حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹیفکیشنز پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ یہ مہم صرف ان لوگوں کے خلاف ہے جن کے پاس قیام کے لیے قانونی اجازت نامے نہیں ہیں۔

  • دستاویزات: اپنے پاس موجود پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈز یا افغان سٹیزن کارڈز (ACC) کی میعاد اور قانونی حیثیت کو یقینی بنائیں۔
  • قانونی پاسداری: انتظامیہ شہری مراکز میں مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ بغیر قانونی دستاویزات کے مقیم افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔
  • سرحدی طریقہ کار: واپسی کا عمل بنیادی طور پر طورخم اور چمن کے سرحدی راستوں کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔

آئندہ کے اقدامات

حکومت پاکستان غیر ملکی باشندوں کی موجودگی پر اپنی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے انخلا کے بعد مقامی لیبر مارکیٹ اور علاقائی سیکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جیسے جیسے صورتحال آگے بڑھے گی، صوبائی انتظامیہ کی جانب سے باقی ماندہ غیر دستاویزی افراد کے بارے میں مزید ڈیٹا جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ تازہ ترین سرکاری اپ ڈیٹس کے لیے وزارت داخلہ اور صوبائی محکمہ داخلہ کے اعلانات کو فالو کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہی ادارے پالیسی میں کسی بھی تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔