پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لا دی ہے، جس کا مقصد امیگریشن کے امور کو منظم کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام غیر ملکیوں کے پاس قیام کے لیے درست قانونی دستاویزات موجود ہوں۔ صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت مختلف اضلاع میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کی نشاندہی کریں جو بغیر کسی قانونی حیثیت کے رہائش پذیر ہیں۔

غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تفصیلات

یہ مہم موجودہ حکومتی پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد غیر دستاویزی تارکین وطن کو واپس بھیجنا ہے۔ حکام کے مطابق، اس آپریشن کا بنیادی مقصد ان افراد کی تصدیق کرنا ہے جن کے پاس پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ، افغان سٹیزن کارڈ (ACC) یا پاکستان کا درست ویزا موجود نہیں ہے۔ جو افراد اپنی قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکام رہیں گے، انہیں انخلاء کے عمل سے گزارا جائے گا۔

پولیس اور مقامی انتظامیہ ان علاقوں میں خصوصی چیکنگ کر رہی ہے جہاں غیر ملکیوں کی آبادی زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ ملک میں رہنے والے تمام افراد کا ریکارڈ موجود ہو۔

رہائشیوں کے لیے اہم ہدایات

اگر آپ پنجاب میں مقیم غیر ملکی ہیں، تو یہ یقینی بنانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کی دستاویزات درست اور اپ ڈیٹ شدہ ہوں۔ حکام چیکنگ کے دوران درج ذیل دستاویزات کا مطالبہ کر سکتے ہیں:
- درست پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ۔
- افغان سٹیزن کارڈ (ACC)۔
- پاکستان کا قانونی ورک یا وزٹ ویزا۔

دستاویزات پیش نہ کرنے کی صورت میں حراست اور واپسی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک منظم طریقہ کار ہے جس کا مقصد غیر ملکیوں کی موجودگی کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

جن افراد کے پاس دستاویزات میں کوئی خامی ہے یا وہ تجدید کروانا چاہتے ہیں، انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نادرا (NADRA) کے متعلقہ دفاتر یا قانونی ماہرین سے رجوع کریں۔ حکومت نے ان افراد کے لیے سہولت مراکز قائم کیے ہیں جو رضاکارانہ واپسی کے عمل میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

آئندہ دنوں میں بڑے شہروں کے داخلی راستوں اور مصروف علاقوں میں پولیس کی نفری میں اضافہ متوقع ہے۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں انخلاء کے عمل میں پیش رفت کے حوالے سے مزید اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف حکومتی اعلانات پر عمل کریں۔