پنجاب کے تین بڑے شہروں میں سفر کرنے والے شہریوں کے لیے ایک نیا qr panic button system متعارف کروا دیا گیا ہے جس کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کو محفوظ بنانا ہے۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) نے اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے کو مکمل کر لیا ہے، جس کے تحت اب مسافر بسوں میں نصب کیو آر کوڈز کو اسکین کر کے براہ راست کنٹرول روم کو الرٹ بھیج سکیں گے۔
یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
یہ اقدام ڈیجیٹل نگرانی کو پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ مربوط کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ ہنگامی صورتحال میں امدادی ٹیمیں بغیر کسی تاخیر کے پہنچ سکیں۔ اگر آپ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہے ہیں، تو آپ کو بسوں کے اندر نمایاں جگہوں پر کیو آر کوڈز نظر آئیں گے۔ اپنے اسمارٹ فون سے اس کوڈ کو اسکین کرتے ہی آپ کا الرٹ براہ راست پی ایس سی اے کے کمانڈ سینٹر تک پہنچ جائے گا۔
اس سسٹم کا بنیادی مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریسپانس ٹائم کو کم کرنا ہے۔ الرٹ فعال ہوتے ہی کنٹرول روم کو گاڑی کی لوکیشن اور صورتحال کی ریئل ٹائم معلومات مل جاتی ہیں۔ یہ روایتی کالنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز اور موثر طریقہ ہے، خاص طور پر ایسی ہنگامی صورتحال میں جہاں فون پر بات کرنا ممکن نہ ہو۔
کن شہروں میں سہولت دستیاب ہے؟
یہ qr panic button system فی الحال لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں شروع کیا گیا ہے۔ ان شہروں کا انتخاب ان کی گنجان آبادی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ ان مراکز سے شروعات کر کے صوبے کے دیگر حصوں تک بھی اس سہولت کو پھیلایا جائے۔
مسافروں کے لیے ہدایات
اگر آپ روزانہ سفر کرتے ہیں، تو اپنے فون کو چارج رکھیں اور کسی بھی کیو آر اسکینر ایپ کو تیار رکھیں۔ بس میں سوار ہوتے ہی اس بات کا جائزہ لیں کہ کیو آر کوڈ کہاں موجود ہے۔ اس سسٹم کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو کسی نئے اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں ہے؛ یہ ہنگامی حالت میں فوری اور بلا تعطل رسائی کے لیے بنایا گیا ہے۔ کسی بھی خطرے کی صورت میں کوڈ اسکین کریں اور اپنی لوکیشن سروسز کو آن رکھیں تاکہ حکام آپ کی گاڑی کی نقل و حرکت کو ٹریک کر سکیں۔
مستقبل کے اقدامات
پی ایس سی اے آنے والے مہینوں میں ان تین شہروں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لے گی۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا اور اس سے جرائم کی شرح یا ریسپانس ٹائم میں بہتری نظر آئی، تو اس منصوبے کو پنجاب کے دیگر اضلاع تک بھی بڑھایا جائے گا۔ مستقبل میں اس میں ویڈیو اسٹریمنگ یا لائیو چیٹ جیسے فیچرز شامل کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
