صوبائی وزیر برائے مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) ملک صہیب احمد بھرت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اہم علاقائی سڑکوں کی تعمیر میں تیزی لائیں تاکہ یہ منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہو سکیں۔ ایک جائزہ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ انفراسٹرکچر کی ترقی میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ احکامات خاص طور پر ملتان۔وہاڑی اور لودھراں۔کہروڑ پکا روڈ پراجیکٹس کے جاری کام کے تناظر میں جاری کیے گئے ہیں۔ یہ اہم شاہراہیں جنوبی پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کو آپس میں ملتی ہیں، جن کی بروقت تکمیل روزمرہ کے مسافروں، مقامی تجارت اور زرعی رسد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ان سڑکوں کی اہمیت
جو لوگ باقاعدگی سے ان راستوں پر سفر کرتے ہیں، وہ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے ہونے والی مشکلات سے بخوبی واقف ہیں۔ جب ٹھیکیدار مقررہ تاریخوں پر کام مکمل نہیں کرتے تو کسانوں کو اپنی فصلیں منڈیوں تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات پر بہتر عوامی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاخیر کی وجہ سے پراجیکٹس کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے اور مسافروں کو روزانہ کی بنیاد پر ٹوٹے پھوٹے راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
وزیر کے احکامات
اپنے دورے کے دوران وزیر موصوف نے فیلڈ انجینئرز اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی روزانہ کی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل اہم ہدایات جاری کی گئیں:
- زمینی کام اور کارپٹنگ کو تیز کرنے کے لیے اضافی مشینری اور لیبر ٹیمیں تعینات کی جائیں۔
- آخری تاریخوں تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی معیار کو بھی سختی سے برقرار رکھا جائے۔
- ہفتہ وار پیش رفت کی رپورٹس براہ راست صوبائی ہیڈ کوارٹر کو ارسال کی جائیں۔
- ضلعی انتظامیہ کی مدد سے مقامی تنازعات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
مسافروں کے لیے ہدایات
اگر آپ کا روزانہ کا سفر ان راستوں سے گزرتا ہے، تو آنے والے ہفتوں میں بھاری مشینری اور ٹریفک کے متبادل راستوں کے لیے تیار رہیں۔ طویل سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ضلعی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کا ضرور جائزہ لیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
یہ دیکھنا باقی ہے کہ صوبائی انتظامیہ مقررہ ہدف پورا نہ کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے۔ ان تنبیہات کا اصل امتحان آنے والے چند مہینوں میں زمین پر نظر آئے گا۔
