پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر گزشتہ سات ماہ کے دوران 9272 مقدمات درج کر لیے ہیں۔ حکومتی احکامات کے بعد پولیس نے پتنگ سازوں، ڈور فروخت کرنے والوں اور پتنگ بازی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لائی ہے تاکہ جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔
پتنگ بازی ایکٹ اور پولیس کا کریک ڈاؤن
صوبائی حکومت نے پتنگ بازی کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر کئی گوداموں اور دکانوں پر چھاپے مارے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دھاتی اور کیمیکل والی ڈور کی تیاری کو جڑ سے ختم کرنا ہے، جو موٹر سائیکل سواروں کے لیے موت کا جال ثابت ہوتی ہے۔
- کل درج مقدمات: 9272
- دورانیہ: گزشتہ سات ماہ
- کارروائی کا دائرہ کار: تیاری، فروخت اور پتنگ بازی
پتنگ بازی کیوں خطرناک ہے؟
پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی شیشے کی تہہ والی یا دھاتی ڈور گلے پر پھرنے سے شدید زخمی ہونے یا موت کا سبب بنتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ڈور انسانی جانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے، اسی لیے اس کی تیاری اور خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے ان تمام عناصر کو کٹہرے میں لایا جا رہا ہے جو اس ممنوعہ کاروبار میں ملوث ہیں۔
شہریوں کے لیے ہدایات
اگر آپ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے تو آپ کو فوری طور پر گرفتار کیا جا سکتا ہے اور مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس حکام کے مطابق پتنگ بازی کی روک تھام کے لیے کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ اگر آپ اپنے علاقے میں پتنگیں یا کیمیکل ڈور بنتے یا بکتے ہوئے دیکھیں تو قریبی تھانے یا پنجاب پولیس کی ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔
مستقبل میں مزید کیا ہوگا؟
آئندہ آنے والے دنوں میں پولیس گشت میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ خاص طور پر آن لائن پلیٹ فارمز اور کوریئر سروسز کی نگرانی بھی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ ممنوعہ سامان کی ترسیل کو روکا جا سکے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
