پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں پتنگ بازی پر پابندی کے نفاذ کو سخت کرتے ہوئے رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران 9,272 مقدمات درج کر لیے ہیں۔ یہ کارروائی دھاتی اور کیمیکل لگی ڈور سے ہونے والے جان لیوا حادثات کے پیش نظر کی گئی ہے۔

پتنگ بازی ایکٹ کے تحت کارروائی

صوبائی انتظامیہ کی جانب سے نافذ کردہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت یکم جنوری 2024 سے 31 جولائی 2024 تک یہ مقدمات درج کیے گئے۔ یہ کارروائیاں نہ صرف پتنگ اڑانے والوں کے خلاف کی جا رہی ہیں بلکہ ان مینوفیکچررز اور دکانداروں کے خلاف بھی کی جا رہی ہیں جو ممنوعہ دھاتی ڈور کی فروخت میں ملوث ہیں۔ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹنے کے واقعات کے بعد پولیس نے اپنی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنایا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ گشت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے بھی ان علاقوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جہاں اب بھی پتنگ بازی جاری ہے۔ پنجاب پروہیبیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

کیمیکل ڈور کے خطرات

عام شہریوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ شیشہ لگی یا کیمیکل زدہ ڈور ہے۔ یہ ڈور چلتی ہوئی گاڑیوں کے لیے موت کا جال ثابت ہوتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمات کی اتنی بڑی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ لوگ قانون کی پرواہ کیے بغیر عوامی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، تاہم پولیس اپنی کارروائی جاری رکھے گی۔

  • آپ کیا کر سکتے ہیں: اگر آپ اپنے علاقے میں پتنگ بازی یا ممنوعہ ڈور کی فروخت دیکھیں تو فوری طور پر ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں۔
  • آئندہ کے اقدامات: حکومت کی جانب سے مزید سخت نگرانی اور عوامی آگاہی مہمات متوقع ہیں۔

عوامی تحفظ کا مستقبل

صوبائی حکومت مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ تقریباً 10 ہزار مقدمات کا اندراج ظاہر کرتا ہے کہ پولیس ان افراد کا پیچھا کرنے کے لیے تیار ہے جو تفریح کے نام پر انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس ممنوعہ سرگرمی سے دور رہیں تاکہ قانونی کارروائی سے بچ سکیں اور قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔