پنجاب پولیس نے آج 14 اگست 2025 کو ملک کی 79ویں یوم آزادی کے موقع پر پورے صوبے میں 28 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر سلامتی کا انتظام تمام بڑے شہروں جیسے لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں کیا گیا ہے، جہاں حکام نے ڈرونز، نشانہ باز اور موبائل جیمروں کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔

یہ تعیناتی اس کے بعد ہوئی ہے جب خفیہ اداروں نے قومی تہواروں کے دوران ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی تھی۔ پولیس نے 300 اضافی چیک پوسٹس اور 150 موبائل تصدیقی ٹیمیں بھی قائم کی ہیں جو مشکوک افراد اور گاڑیوں کی چھان بین کریں گی۔ صرف لاہور میں ہی 5 ہزار اہلکار اہم مقامات جیسے مینار پاکستان، شہرہ دیواراں اور مال روڈ کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ نشانہ بازوں کو حساس مقامات کے قریب بلند عمارتوں پر تعینات کیا گیا ہے۔

کون سے علاقوں میں سلامتی سخت ترین ہے؟

  • لاہور: 5 ہزار اہلکار، 120 چیک پوسٹس، ڈرونز کی نگرانی
  • راولپنڈی: 4 ہزار 200 اہلکار، چھتوں پر نشانہ باز، موبائل جیمروں کا فعال استعمال
  • ملتان: 3 ہزار 500 اہلکار، 80 چیک پوسٹس، وی آئی پی روٹس محفوظ
  • فیصل آباد: 3 ہزار اہلکار، 60 چیک پوسٹس، عوامی اجتماعات کی نگرانی
  • گوجرانوالہ: 2 ہزار 800 اہلکار، 50 چیک پوسٹس، ڈرون نگرانی

حکام نے موبائل انٹرنیٹ سروسز کو لاہور اور راولپنڈی کے کچھ علاقوں میں صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ڈرونز کے ذریعے کسی بھی قسم کے حملے کو روکا جا سکے۔ پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (پی سی ٹی ڈی) نے تمام ضلعی پولیس افسران کو کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری کارروائی کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

عوامی سلامتی کے لیے کون سے اقدامات کئے گئے ہیں؟

  • تمام عوامی مقامات جیسے پارک اور اسٹیڈیم پر سامان کی چیکنگ
  • شاہراہوں اور شہری سڑکوں پر گاڑیوں کی بے ترتیب چیکنگ
  • اہم چوراہوں پر بم ڈسپوزل یونٹس کی تعیناتی
  • تمام اضلاع میں ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کو تیار رکھنا
  • سوشل میڈیا اور مقامی مساجد کے ذریعے عوامی آگاہی مہم

پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے تصدیق کی کہ یہ سلامتی کا منصوبہ تین اعلیٰ سطحی میٹنگز کے بعد تیار کیا گیا ہے جن میں آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) سمیت خفیہ اداروں نے حصہ لیا۔ انہوں نے لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے ہر وہ احتیاط برتی ہے کہ تہوار بغیر کسی حادثے کے گذر سکیں۔"

آپ کو آج کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کسی عوامی تقریب میں شرکت کر رہے ہیں:

  • دو گھنٹے قبل پہنچ جائیں تاکہ سکیورٹی چیکنگ میں تاخیر نہ ہو
  • بڑی بیگ یا تیز دھار اشیاء ساتھ نہ لائیں
  • اپنا شناختی کارڈ اور موبائل فون ساتھ رکھیں
  • پولیس اور تقریب کے منتظمین کی ہدایات پر عمل کریں
  • کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر 15 (پولیس ہیلپ لائن) پر دیں

اگر آپ سفر کر رہے ہیں:

  • چیک پوسٹس اور سلامتی اقدامات کی وجہ سے سڑکوں پر تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے
  • جہاں ممکن ہو عوامی نقل و حمل کا استعمال کریں—میٹرو اور بس سروسز طویل اوقات کے لیے چل رہی ہیں
  • اعلیٰ سلامتی والے زون جیسے لاہور کے ریڈ زون میں بے ضرورت سفر سے پرہیز کریں
  • real-time ٹریفک اپ ڈیٹس کے لیے پنجاب سیف سٹیز ایپس یا 1122 ہیلپ لائن چیک کریں

آگے کیا ہے؟

سلامتی کا انتظام 15 اگست کی شام تک سخت رہے گا، جس کے بعد پولیس پوسٹ ایونٹ اسسمنٹ کرے گی تاکہ کسی بھی خلا کی نشاندہی کی جا سکے۔ پنجاب حکومت نے تمام اضلاع کو روزانہ سلامتی رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی حکام دوسرے صوبوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں بھی اسی طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے پنجاب پولیس کے سرکاری ٹوئٹر/ایکس اکاؤنٹ (@PunjabPolicePK) کو فالو کریں یا پنجاب سیف سٹیز ویب سائٹ (www.punjabsafecities.punjab.gov.pk) چیک کریں۔

حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ اگرچہ سلامتی اولین ترجیح ہے، لیکن تہوار اپنے مقررہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوں گے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا، "یہ قومی فخر کا دن ہے اور ہم اسے محفوظ طریقے سے منانا یقینی بنائیں گے۔"

---
یہ رپورٹ قومی سیکشن کے تحت شائع کی گئی ہے کیونکہ یہ گھریلو سلامتی اور سرکاری اقدامات پر مبنی ہے۔