صوبائی وزیر برائے صحت و ہنگامی خدمات خواجہ سلمان رفیق نے پنجاب میں مون سون اور سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی تاکہ صوبے کو آنے والی بارشوں کے لیے مکمل طور پر تیار رکھا جا سکے۔
منگل کے روز لاہور میں منعقدہ اس اجلاس میں وزیر نے ہنگامی امدادی سامان کی خریداری اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکمت عملیوں کو حتمی شکل دی۔ پنجاب میں مون سون کی شدید بارشیں اکثر شہری اور دیہی علاقوں میں تباہی کا باعث بنتی ہیں، اس لیے حکومت نے ریسکیو ٹیموں کی تیاری اور ہنگامی سامان کی دستیابی کو ترجیح دی ہے۔
پنجاب میں مون سون اور سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنانا
صوبائی حکومت کی توجہ اس بات پر ہے کہ ہنگامی خدمات کے ادارے شدید بارشوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری طرح لیس ہوں۔ اجلاس کے دوران حکام نے جان بچانے والے آلات بشمول کشتیوں، ڈی واٹرنگ پمپس اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے درکار طبی سامان کے انوینٹری کا جائزہ لیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب میں مون سون اور سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کی حکمت عملی ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات پر مبنی ہونی چاہیے۔ وزیر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ تمام مشینری کو فعال کیا جائے اور ریسکیو اہلکاروں کو بارشوں کے آغاز سے قبل ہی حساس علاقوں میں تعینات کیا جائے۔ اس میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے ساتھ رابطہ کاری شامل ہے تاکہ ہنگامی حالات میں مواصلاتی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
آپ کو کیا جاننے اور تیاری کرنے کی ضرورت ہے
نشینی علاقوں میں رہنے والے یا سیلاب کے خطرے سے دوچار اضلاع کے رہائشیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے باخبر رہیں۔ حکومت عام طور پر پاکستان محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ pmd.gov.pk کے ذریعے موسم کی اپ ڈیٹس جاری کرتی ہے۔
اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے درج ذیل اقدامات کریں:
- محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ کی موسم کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
- اگر آپ دریاؤں کے قریب رہتے ہیں تو محفوظ انخلاء کے راستوں کی نشاندہی کریں۔
- ریسکیو 1122 کے ہنگامی رابطہ نمبرز اپنے موبائل میں محفوظ رکھیں۔
- ضروری دستاویزات اور ادویات کو واٹر پروف تھیلیوں میں پیک کرکے رکھیں۔
آگے کیا ہوگا؟
مون سون کا موسم قریب آتے ہی حکومت ریسکیو ٹیموں کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے فرضی مشقیں کرے گی۔ شہریوں کو توقع رکھنی چاہیے کہ لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں کے نکاسی آب کے نظام کی نگرانی بڑھائی جائے گی تاکہ گزشتہ برسوں کی طرح پانی جمع ہونے کے مسائل سے بچا جا سکے۔
آگے بڑھتے ہوئے، محکمہ صحت ان بیماریوں کی بھی نگرانی کرے گا جو مون سون کے مہینوں میں پھیلتی ہیں۔ حکام نے وعدہ کیا ہے کہ ممکنہ سیلاب کے سماجی اور معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے موسم کے دوران ہائی الرٹ رہا جائے گا۔
