وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پینے کے پانی کی بوتل پر چارجز عائد کرنے کی ابتدائی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کرتے ہوئے صوبے بھر میں عوام کو پینے کے صاف پانی کی مفت فراہمی کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور میں پینے کے صاف پانی کے منصوبے سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس عوامی فلاحی منصوبے کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ عام شہریوں کو کسی قسم کی اضافی مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عام شہریوں کے لیے یوٹیوب بلوں اور روزمرہ کے اخراجات پہلے ہی بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس بنیادی ضرورت پر کسی قسم کا ٹیکس یا چارج نہ لگانے کے اقدام کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

پانی کی فراہمی کے منصوبے پر اہم ہدایات

اجلاس کے دوران پیش کی گئی ابتدائی سمری میں پینے کے پانی کے انتظامات اور مینٹیننس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور آئیں، جن میں کچھ انتظامی چارجز کا نفاذ بھی شامل تھا۔ تاہم وزیراعلیٰ نے صاف پانی کی مفت فراہمی کے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ اس بوجھ کو عوام پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔

فیصلے کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
- پانی کی بوتلوں اور تقسیم کے پوائنٹس پر کسی بھی قسم کے نئے چارجز کی تردید۔
- صوبے بھر میں خراب اور بند پڑے ہوئے فلٹریشن پلانٹس کی فوری مرمت اور بحالی کی ہدایت۔
- پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت کوالٹی کنٹرول چیکس کا نفاذ۔
- پسماندہ دیہی علاقوں تک صاف پانی کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کا منصوبہ۔

بین الاقوامی خبریں اور خطے کی صورتحال

دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر مشرق وسطیٰ سے اہم خبریں بھی سامنے آئی ہیں جہاں اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک اسرائیل اپنے جنگی اہداف حاصل نہیں کر لیتا، غزہ میں فوجی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رکھی جائیں گی، چاہے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق کوئی بھی معاہدہ زیر بحث ہو۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کے علاقے میں کوئی سرکاری واٹر فلٹریشن پلانٹ خراب ہے یا بند پڑا ہے، تو آپ کو کسی بھی نجی شخص کو پیسے دینے کی ضرورت نہیں۔ آپ ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ محکمے کے پورٹل پر اس کی شکایت درج کرا سکتے ہیں تاکہ حکومت کی طرف سے مفت مرمت کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

آئندہ کیا متوقع ہے

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت پنجاب اپنے ترقیاتی بجٹ میں فلٹریشن پلانٹس کی بہتری کے لیے کتنے فصوص مختص کرتی ہے، تاکہ بغیر کسی صارف فیس کے عوام کو پائیدار بنیادوں پر صاف پانی ملتا رہے۔