آئی جی پنجاب عبدالکریم کی ہدایات کے بعد صوبائی حکومت نے پنجاب سکیورٹی ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت مذہبی مقامات، عوامی مقامات اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل جیسے انتہائی حساس علاقوں میں بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی اقدامات میں اس اچانک اضافے نے کئی علاقوں میں روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکے لگا دیے ہیں اور اہم تنصیبات کے قریب نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔
سکیورٹی لاک ڈاؤن کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
- صوبائی الرٹ: پنجاب پولیس نے جمعہ کے روز لاہور سمیت تمام اضلاع کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے۔
- حساس مقامات: مساجد، امام بارگاہوں، مزارات اور مصروف تجارتی بازاروں کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
- اڈیالہ جیل کی ناکہ بندی: راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے اطراف سخت سکیورٹی حصار قائم کر دیا گیا ہے، اسٹریٹ لائٹس بند اور مقامی دکانیں بند کرا دی گئی ہیں۔
- شفا ہسپتال کے باہر بیریئرز: شفا ہسپتال سے ڈیڑھ کلومیٹر دور سکیورٹی بیریئرز لگا دیے گئے ہیں اور صحافیوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
پنجاب سکیورٹی ہائی الرٹ کیوں نافذ کیا گیا؟
صوبے بھر میں پنجاب سکیورٹی ہائی الرٹ نافذ کرنے کا فیصلہ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر اور جمعہ کے اجتماعات کے دوران عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تمام ریجنل اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو ذاتی طور پر سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
لاہور میں شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اہم مزارات اور مرکزی مساجد پر سراغ رساں کتوں اور میٹل ڈیٹیکٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ محکمہ پولیس نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگرچہ جمعہ کے روز سکیورٹی کے معمول کے اقدامات کیے جاتے ہیں، لیکن اس بار تعیناتی کا پیمانہ صوبے بھر میں غیر معمولی چوکسی کی نشاندہی کرتا ہے۔
راولپنڈی میں غیر معمولی اقدامات: اڈیالہ جیل اور شفا ہسپتال کا گھیراؤ
سکیورٹی کے سب سے سخت اور واضح اقدامات راولپنڈی میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اڈیالہ جیل، جہاں کئی اہم سیاسی قیدی قید ہیں، کے ارد گرد کے علاقے کو ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے جیل کی حدود کے قریب کام کرنے والی تمام تجارتی دکانیں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک انتہائی غیر معمولی اقدام کے تحت، اطراف کی اسٹریٹ لائٹس بند کر دی گئی ہیں، جس سے سڑکیں اندھیرے میں ڈوب گئی ہیں اور سکیورٹی فورسز پیٹرولنگ کر رہی ہیں۔
دوسری جانب شفا ہسپتال کے قریب بھی سکیورٹی کا بھاری نظام تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس نے ہسپتال کی عمارت سے ڈیڑھ کلومیٹر دور تک کثیر الجہتی بیریئرز قائم کر دیے ہیں۔ صورتحال کی کوریج کے لیے پہنچنے والے صحافیوں اور میڈیا ٹیموں کو سکیورٹی اہلکاروں نے پیچھے دھکیل دیا ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو حدود کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
عوامی زندگی اور ٹریفک کی صورتحال پر اثرات
ان سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شفا ہسپتال کے قریب ناکہ بندی کی وجہ سے ٹریفک کے معمول کے راستے بند ہو گئے ہیں، جس کے باعث گاڑیوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں۔
عام لوگوں کے لیے، اڈیالہ جیل کے اطراف دکانیں بند ہونے سے مقامی کاروبار معطل ہو گیا ہے اور قریبی ہاؤسنگ سوسٹیز کے رہائشیوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ شاہراہوں اور شہری سڑکوں پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹوں کی وجہ سے ٹریفک جام کے شدید مسائل پیدا ہو رہے ہیں، خاص طور پر صبح اور دوپہر کے اوقات میں شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ پنجاب، بالخصوص لاہور یا راولپنڈی میں سفر کر رہے ہیں یا رہائش پذیر ہیں، تو آپ کو فوری طور پر درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:
- شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں: ہمیشہ اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) اور گاڑی کے رجسٹریشن کاغذات اپنے پاس رکھیں۔
- حساس علاقوں سے گریز کریں: جب تک انتہائی ضروری نہ ہو، اڈیالہ جیل اور شفا ہسپتال کی طرف جانے والے راستوں پر سفر کرنے سے گریز کریں۔
- سفر کی منصوبہ بندی کریں: سکیورٹی چیکنگ اور ٹریفک کے متبادل راستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سفر کے لیے اضافی وقت رکھیں۔
- پولیس کے ساتھ تعاون کریں: چیک پوسٹوں پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ کسی بھی قسم کی بدمزگی یا تاخیر سے بچا جا سکے۔
- مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں: اگر آپ کو کوئی لاوارث بیگ یا مشکوک افراد نظر آئیں تو فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن (15) پر اطلاع دیں۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
آنے والے دنوں میں کئی عوامل یہ طے کریں گے کہ یہ ہائی الرٹ کب تک برقرار رہے گا۔ مبصرین محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے کسی بھی ایسے سرکاری بیان کا انتظار کر رہے ہیں جس میں اڈیالہ جیل اور شفا ہسپتال کے اطراف اچانک لاک ڈاؤن کی اصل وجوہات واضح کی جائیں۔
مزید برآں، راولپنڈی میں دکانوں کی زبردستی بندش پر مقامی تاجر برادری کا ردعمل بھی اہم ہوگا۔ شہری ٹریفک پولیس کے پیجز اور سرکاری پولیس چینلز پر نظر رکھیں تاکہ بیریئرز ہٹانے یا راستے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کسی بھی اپ ڈیٹ سے باخبر رہ سکیں۔
