وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بدھ، 18 فروری 2026 کو لاہور میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ فیصل آباد واٹر سپلائی پروجیکٹ کی کامیابی کو صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں بھی دہرایا جائے۔ صوبے بھر کے شہری علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جہاں پرانی پائپ لائنوں اور آلودہ زمینی پانی کے باعث لاکھوں شہری بیمار ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی تکنیکی اور مالیاتی تعاون حاصل کر کے صوبائی انتظامیہ فیصل آباد کی طرز پر جدید فلٹر پلانٹس اور پانی کی تقسیم کا نظام دوسرے اضلاع میں بھی لے جانا چاہتی ہے۔
فیصل آباد واٹر ماڈل کی توسیع
فیصل آباد کا واٹر سپلائی پروجیکٹ ماضی میں انتظامی اور میونسپل سطح پر ایک کامیاب تجربہ رہا ہے جہاں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنایا گیا۔ مجوزہ توسیع پلان کے تحت جائیکا واٹر پروجیکٹ کے اصولوں کو راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ اور دیگر بڑے شہروں میں نافذ کرنے کا ارادہ ہے۔ صوبائی محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں فیزبلٹی رپورٹس تیار کریں تاکہ باضابطہ تجاویز فنڈنگ کے حصول کے لیے جاپانی حکومت کو بھیجی جا سکیں۔
- صوبے کے بڑے شہروں میں میونسپل واٹر سپلائی کے نظام کو اپ گریڈ کرنا۔
- جاپانی ترقیاتی اداروں سے گرانٹ اور تکنیکی مدد کی توقع۔
- سمارٹ میٹرنگ اور جدید ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے پانی کے ضیاع کو روکنا۔
عام شہریوں کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے
اگر آپ پنجاب کے کسی بھی شہری علاقے میں رہائش پذیر ہیں تو نلکے کا آلودہ پانی اور غیر یقینی فراہمی آپ کے روزمرہ کے مسائل میں شامل ہے، جس کی وجہ سے مہنگا منرل واٹر خریدنا مجبوری بن جاتا ہے۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں شہریوں کے علاج اور ادویات پر بھاری رقم خرچ کرواتی ہیں۔ اگر فیصل آباد جیسا نظام کامیابی سے دوسرے شہروں میں لاگو ہو جائے تو لوگوں کو گھروں تک صاف پانی میسر آ سکتا ہے۔ تاہم ماضی میں اس طرح کے ترقیاتی وعدے فنڈز کی کمی اور بیوروکریسی کی تاخیر کا شکار ہوتے رہے ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں میونسپل کارپوریشنز کے کاموں پر نظر رکھیں اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے مقامی حکام پر دباؤ ڈالیں۔ اگر آپ کے علاقے میں پائپ لائنیں ٹوٹی ہوئی ہیں یا پانی آلودہ آتا ہے تو وزیراعلیٰ پنجاب کے پورٹل یا متعلقہ واسا کی ہیلپ لائن پر اپنی شکایات درج کروائیں۔ آنے والے مالیاتی سال کے بجٹ میں اپنے شہر کے لیے مختص ہونے والے فنڈز پر بھی کڑی نظر رکھیں تاکہ پراجیکٹ کے نفاذ کا پتہ چل سکے۔
اگست تک کیا دیکھنا باقی ہے
آنے والے چند مہینوں میں پنجاب حکومت اور جاپانی وفد کے درمیان ابتدائی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا مقامی ادارے جائیکا کے مقرر کردہ معیار کو برقرار رکھ پاتے ہیں یا روایتی سستی اور بدانتظمی اس منصوبے کو بھی متاثر کرتی ہے۔
