پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی جیلوں میں سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے 'سیف جیل پروجیکٹ' کے تحت 5 ارب روپے کی لاگت سے جدید ترین نگرانی کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد جیلوں کے اندرونی نظام کو ڈیجیٹل اور محفوظ بنانا ہے۔

سیف جیل پروجیکٹ کی تفصیلات

اس منصوبے کے تحت پنجاب بھر کی جیلوں میں 12 ہزار سے زائد جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ان کیمروں کی تنصیب سے جیلوں کے اندر بیرکوں، داخلی و خارجی راستوں اور دیگر اہم مقامات کی 24 گھنٹے نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، منصوبے کے لیے درکار 80 فیصد جدید آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے اور تکنیکی ماہرین ان آلات کا معائنہ بھی کر چکے ہیں۔

سیکیورٹی میں بہتری کیوں ضروری ہے؟

پاکستان کی جیلوں میں ماضی میں سیکیورٹی کی خامیوں، ممنوعہ اشیاء کی ترسیل اور انتظامی غفلت کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے حکومت انسانی غلطیوں کو کم کرنے اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کرنا چاہتی ہے۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے گورننس کو بہتر بنانے اور جیلوں کے اندر نظم و ضبط کو سخت کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔

شہریوں اور متعلقہ حلقوں کے لیے پیش رفت

منصوبے کا اگلا مرحلہ ان کیمروں کی عملی تنصیب ہے۔ آنے والے دنوں میں مندرجہ ذیل امور پر توجہ مرکوز رہے گی:

  • صوبے کی تمام بڑی اور ڈسٹرکٹ جیلوں میں کیمروں کی مکمل تنصیب۔
  • کیمروں کی فیڈ کو ایک مرکزی مانیٹرنگ کمانڈ سینٹر سے منسلک کرنا۔
  • جیل عملے کو جدید ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کے استعمال کے لیے تربیت فراہم کرنا۔

اگرچہ حکومت نے منصوبے کی تکمیل کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ کام تیزی سے جاری ہے۔ اس 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ آلات طویل عرصے تک فعال رہتے ہیں اور کیا جیل انتظامیہ ان سے حاصل ہونے والی معلومات پر بروقت عملدرآمد کر پاتی ہے۔