پاکستان میں ڈجیٹل اثاثوں کے لیے پہلا باقاعدہ فریم ورک اب مکمل ہو گیا ہے۔ پاکستان وچوئل اثاثوں کی ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) نے وچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں (وی اے ایس پیز) کے لیے اپنا آفیشل لائسنسنگ پورٹل لانچ کر دیا ہے۔ یہ کرپٹو اور بلاکچین صنعت کے لیے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے والا قدم ہے۔
یہ پورٹل 15 جون 2026 کو فعال ہو گیا ہے، جس کے تحت کمپنیاں ویچوئل اثاثہ ایکٹ 2025 کے تحت لائسنس کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ یہ ایکٹ مارچ 2026 میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کے تحت پی وی اے آر اے کو کرپٹو ایکسچینجز، والٹ فراہم کرنے والوں اور دیگر ڈجیٹل اثاثہ جات کی خدمات کو منظم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
کاروباریوں کے لیے کیا مطلب ہے؟
- لائسنس لینا اب لازمی ہے پاکستان میں کرپٹو ٹریڈنگ، کسٹڈی یا متعلقہ خدمات فراہم کرنے والی کسی بھی کمپنی کے لیے۔
- درخواستیں فوراً شروع ہو گئی ہیں۔ پورٹل pvara.gov.pk/license پر دستیاب ہے۔
- فیسز کا آغاز 5 لاکھ روپے سے ہوتا ہے۔ مکمل ایکسچینج لائسنس کے لیے یہ فیس 50 لاکھ روپے تک جا سکتی ہے۔
- موجودہ فرموں کے لیے آخری تاریخ: تمام غیر رجسٹرڈ وی اے ایس پیز کو 90 دنوں کے اندر (یعنی 14 ستمبر 2026 تک) درخواست دینی ہوگی، ورنہ جرمانے کا سامنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں کرپٹو مارکیٹ بے ضابطگی کے باوجود تیزی سے بڑھی ہے۔ چینالائسس کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل تھا جہاں کرپٹو اپنائو سب سے زیادہ تھا۔ 2025 میں یہاں 5.2 ارب ڈالر کے کرپٹو لین دین ہوئے۔ بے ضابطگی کی وجہ سے دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ اور سرمایہ کاروں کے نقصانات کا خطرہ تھا۔
نئے فریم ورک کا مقصد ہے:
- صارفین کا تحفظ: وی اے ایس پیز کو منی لانڈرنگ مخالف (اے ایم ایل) اور جانو اپنے کسٹمر (کے وائی سی) معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔
- جائز کاروبار کو راغب کرنا: کرپٹو اسٹارٹ اپس کے لیے ایک صاف قانونی راستہ فراہم کرنا۔
- غیر قانونی مالیات کو روکنا: غیر لائسنسڈ فرموں کو کام کرنے سے روکنا۔
کون درخواست دے سکتا ہے؟
اگر آپ کا کاروبار ان میں سے کسی میں شامل ہے تو لائسنس لینا ضروری ہے:
- کرپٹو ایکسچینجز (بٹ کوائن، ایتھریم وغیرہ کی خرید و فروخت)
- کرپٹو والٹس (کسٹمرز کے لیے ڈجیٹل اثاثے محفوظ کرنا)
- کرپٹو اے ٹی ایم (کرپٹو خریدنے کے لیے مشینیں)
- ڈی فائی پلیٹ فارمز (و decentralized finance خدمات)
- این ایف ٹی مارکیٹ پلیسز (ڈجیٹل کلکشنز کی فروخت)
فرائی لانسروں اور انفرادی صارفین جو ذاتی استعمال کے لیے کرپٹو ٹریڈ کرتے ہیں انہیں لائسنس کی ضرورت نہیں، لیکن کاروباریوں کو پابندیوں پر عمل کرنا ہوگا۔
لائسنس کے لیے 3 مرحلے کی درخواست کیسے کریں
1. پورٹل پر جائیں: pvara.gov.pk/license پر جا کر اکاؤنٹ بنائیں۔
2. دستاویزات جمع کروائیں: اپنی کمپنی کے رجسٹریشن کے کاغذات، اے ایم ایل/کے وائی سی پالیسیاں اور مالی رپورٹس اپ لوڈ کریں۔
3. فیس ادا کریں: فیس 5 لاکھ روپے (بنیادی) سے لے کر 50 لاکھ روپے (مکمل ایکسچینج) تک ہو سکتی ہے۔ درخواست پر کارروائی میں 30 سے 60 دن لگ سکتے ہیں۔
پی وی اے آر اے نے خبردار کیا ہے کہ لائسنس کے بغیر کام کرنے پر 20 ملین روپے کا جرمانہ یا 3 سال قید ہو سکتی ہے۔
آگے کیا ہے؟
- پہلے لائسنس اگست 2026 تک متوقع: پی وی اے آر اے کا ہدف ہے کہ پہلی درخواستوں پر دو ماہ کے اندر کارروائی کی جائے۔
- ٹیکس کی وضاحت آ رہی ہے: وفاقیBoard of Revenue (ایف بی آر) کرپٹو ٹیکس کے قواعد پر کام کر رہا ہے، جو جولائی 2026 تک آ جانے کی توقع ہے۔
- وی اے ایس پیز کے لیے بینکنگ رسائی: State Bank of Pakistan (ایس بی پی) لائسنسڈ کرپٹو فرموں کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کی ہدایات پر کام کر رہا ہے—یہ کرپٹو صنعت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تھی۔
سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کو کیا کرنا چاہیے؟
- چیک کریں کہ آپ کا ایکسچینج لائسنسڈ ہے یا نہیں: غیر لائسنسڈ پلیٹ فارمز بند ہو سکتے ہیں یا قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔
- غیر رجسٹرڈ فرموں کی رپورٹ کریں: مشکوک سرگرمی کی رپورٹ کرنے کے لیے پی وی اے آر اے پورٹل استعمال کریں۔
- ٹیکس کے لیے تیار رہیں: جب ایف بی آر کے قواعد آ جائیں گے تو کرپٹو منافع کو شاید کاروباری آمدنی کے طور پر ٹیکس لگایا جائے گا۔
صنعت کی ردعمل
پاکستان بلاکچین ایسوسی ایشن نے اس قدم کو مثبت قرار دیا لیکن خبردار کیا کہ زیادہ فیس چھوٹے اسٹارٹ اپس کو حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔ دوسری طرف بیننس پاکستان (ایک بڑا عالمی ایکسچینج) نے پہلے ہی لائسنس کے لیے درخواست دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
آخری بات
یہ پاکستان کا پہلا سنجیدہ اقدام ہے جو کرپٹو کو بے ضابطگی کے بازار سے نکال کر باقاعدہ دائرے میں لائے گا۔ کاروباریوں کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ قانونی طور پر کام کریں۔ ٹریڈرز کے لیے یہ محفوظ سرمایہ کاری کی طرف ایک قدم ہے۔ حکومت کے لیے یہ مالی جرائم پر قابو پانے کا راستہ ہے۔ اگلے 90 دن یہ طے کریں گے کہ پاکستان کا کرپٹو سیکٹر ریگولیشن کے تحت ترقی کرتا ہے یا اس کے دباؤ میں آ جاتا ہے۔
یاد رکھنے کے اہم تاریخیں:
- 15 جون 2026: لائسنسنگ پورٹل کا آغاز
- 14 ستمبر 2026: موجودہ وی اے ایس پیز کے لیے آخری تاریخ
- اگست 2026: پہلے لائسنس متوقع
- جولائی 2026: ایف بی آر کرپٹو ٹیکس کے قواعد متوقع
اپ ڈیٹس کہاں سے حاصل کریں:
- آفیشل پورٹل: pvara.gov.pk
- ہیلپ لائن: +92-51-111-782-782
- ای میل: support@pvara.gov.pk
