فن ٹیک پلیٹ فارم قسط بازار نے تاریخی qistbazaar sukuk کے ذریعے کامیابی کے ساتھ 50 کروڑ (500 ملین) روپے جمع کر لیے ہیں، جو پاکستان کے ڈیجیٹل قسطوں کے شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
یہ لین دین بائی ناؤ، پے لیٹر (BNPL) یعنی 'ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں' والے پلیٹ فارم کے لیے پاکستان کا پہلا غیر درجہ بند اور نجی طور پر جاری کیا جانے والا اسلامی بانڈ (سکوک) ہے۔ فنڈز کا یہ حصول متبادل ڈیجیٹل قرضہ جات کے ماڈلز پر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ان ماڈلز پر جو شرعی اصولوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔ کراچی میں قائم اس اسٹارٹ اپ نے یہ فنڈز ملک بھر میں اپنے آپریشنز کو وسعت دینے کے لیے ایک وسیع پروگرام کے پہلے مرحلے کے طور پر حاصل کیے ہیں۔
اس سودے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
- مجموعی حاصل کردہ رقم: پہلے مرحلے میں 50 کروڑ روپے (500 ملین روپے)۔
- سرمایہ کاری کی قسم: نجی طور پر جاری کردہ، غیر درجہ بند سکوک (اسلامی سرمایہ کاری کا سرٹیفکیٹ)۔
- ہدف کا شعبہ: شرعی اصولوں کے مطابق قسطوں پر خریداری اور فنانسنگ۔
- اہمیت: پاکستان میں کسی بھی فن ٹیک پلیٹ فارم کی جانب سے جاری کیا جانے والا پہلا غیر درجہ بند نجی سکوک۔
- آفیشل پلیٹ فارم: صارفین قسطوں کے منصوبوں کی تفصیلات براہ راست قسط بازار کی ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔
قسط بازار سکوک پاکستانی فن ٹیک سیکٹر کے لیے کیوں اہم ہے؟
پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے ادارہ جاتی فنڈنگ کا حصول ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جنہیں قرضے دینے کے لیے بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ غیر درجہ بند اور نجی طور پر جاری کردہ qistbazaar sukuk کے ذریعے کمپنی نے روایتی بینکنگ قرضوں پر انحصار کیے بغیر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مقامی سرمایہ کار ٹیکنالوجی پر مبنی قسطوں کے پلیٹ فارمز پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
روایتی بانڈز کے برعکس، سکوک بنیادی اثاثہ میں جزوی ملکیت کی نمائندگی کرتا ہے، جو اسے اسلامی مالیاتی اصولوں کے عین مطابق بناتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں کی اکثریت روایتی سودی بینکنگ سے گریز کرتی ہے، یہ شرعی ڈھانچہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے قسط بازار کو اسلامی فنڈز تک رسائی حاصل ہوگی اور وہ اپنے صارفین کو حلال قسطوں کے اختیارات فراہم کر سکے گا۔
یہ سودا دیگر پاکستانی فن ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مقامی کیپٹل مارکیٹ اب اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ وہ متبادل قرضوں کے ذرائع کو سپورٹ کر سکے، جس سے بیرونی وینچر کیپٹل پر انحصار کم ہوگا جو عالمی سطح پر گزشتہ دو سالوں سے کافی کم ہو چکا ہے۔
یہ فنڈنگ عام صارفین کو کیسے متاثر کرے گی؟
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یکمشت ادائیگی کر کے ضروری اشیاء خریدنا اب ممکن نہیں رہا۔ چاہے آن لائن کام کے لیے اسمارٹ فون ہو، فریج ہو یا روزمرہ کی آمدورفت کے لیے موٹر سائیکل، صارفین اب قسطوں کے منصوبوں کا رخ کر رہے ہیں۔
قسط بازار ان لوگوں کو آسان اور بلا سود قسطوں کے اختیارات فراہم کرتا ہے جن کی بینکوں تک رسائی نہیں ہے۔ 50 کروڑ روپے کی اس نئی فنڈنگ سے پلیٹ فارم کو درج ذیل سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی:
- اپنے اسٹاک میں مزید ہوم اپلائنسز، الیکٹرانکس اور بائیکس شامل کرنا۔
- ایسے صارفین کو قسطوں کی ادائیگی کے لیے آسان شرائط دینا جن کے پاس روایتی کریڈٹ کارڈز موجود نہیں ہیں۔
- قسطوں کی درخواستوں کی منظوری کے ڈیجیٹل نظام کو مزید تیز اور بہتر بنانا۔
اس فنڈنگ کے استعمال سے عام لوگوں کے لیے روزگار کے لیے ضروری اشیاء خریدنا آسان ہو جائے گا، جس سے چھوٹے کاروباری افراد اور تنخواہ دار طبقے کو اپنا روزگار برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
بطور صارف یا سرمایہ کار آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ قسطوں پر کوئی چیز خریدنا چاہتے ہیں، تو آپ قسط بازار کے پورٹل پر جا کر اپنی اہلیت چیک کر سکتے ہیں۔ روایتی بینکوں کے برعکس، جو طویل کاغذی کارروائی، تنخواہ کی پرچیوں اور کلین کریڈٹ ہسٹری (ECIB) کا تقاضا کرتے ہیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز متبادل ڈیٹا کی بنیاد پر صارف کی ادائیگی کی صلاحیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار فری لانسرز، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے فنانسنگ حاصل کرنا آسان بناتا ہے۔
مقامی سرمایہ کاروں کے لیے، یہ سودا فن ٹیک کے شعبے میں نجی قرضوں کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سے آنے والے ایسے ہی دیگر شرعی قرضہ جات کے آلات پر نظر رکھیں، کیونکہ توقع ہے کہ دیگر کمپنیاں بھی اپنے قرضوں کے پورٹ فولیو کو وسعت دینے کے لیے اسی ماڈل کی پیروی کریں گی۔
قسطوں کے کاروبار (BNPL) کا مستقبل کیا ہے؟
50 کروڑ روپے کا یہ سکوک قسط بازار کے فنڈ ریزنگ پروگرام کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔ مارکیٹ کے مبصرین اب اس بات پر نظر رکھیں گے کہ کمپنی اس سرمائے کو کتنی تیزی سے استعمال کرتی ہے اور کاروبار کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ نادہندگان (ڈیفالٹرز) کی شرح کو کیسے قابو میں رکھتی ہے۔
مزید برآں، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کا ردعمل بھی انتہائی اہم ہوگا۔ اگر یہ ادارے ایسے جدید مالیاتی ڈھانچوں کو فروغ دیتے رہے، تو آنے والے وقت میں فن ٹیک کمپنیوں کی جانب سے مزید سکوک جاری کیے جائیں گے، جو پاکستان میں ڈیجیٹل قرضہ جات کے پورے منظر نامے کو بدل سکتے ہیں۔
