وفاقی حکام کو سیپکو (سکھر الیکٹرک پاور کمپنی) کے 14.21 ارب روپے کے غیر وصول شدہ بجلی کے تخمینے پر شدید سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آزاد جانچ پڑتال کرنے والے اداروں اور مالیاتی منصوبہ سازوں نے اس بات پر گہری نظر رکھی ہے کہ یہ اتنی بڑی مالی خلیج کیسے پیدا ہوئی، جبکہ ملک بھر کے عام بجلی صارف پہلے ہی مہنگے بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
14.21 ارب روپے کا یہ معاملہ کیا ہے؟
سیپکو کی طرف سے یہ اربوں روپے کی رقم غیر وصول شدہ بجلی کے اخراجات کے طور پر درج کی گئی ہے، جس سے ریگولیٹرز اور شعبے کے ماہرین میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین اور نگراں کمیٹیوں نے اس واجب الادا رقم کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ خسارہ لائن لاسز، دائمی نادہندگان سے سست وصولی، یا انتظامی نااہلی کی وجہ سے بڑھا ہے۔
سندھ کے بالائی علاقوں میں بجلی کی تقسیم کا نظام پہلے ہی مسائل کا شکار ہے۔ جب کوئی ڈسکوم اتنی بڑی رقم وصول کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو اس کا مالیاتی بوجھ بالآخر کوارٹرلی ایڈجسٹمنٹ اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے وقت پر بل ادا کرنے والے شہریوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔
ریگولیٹری جانچ اور آئندہ کا لائحہ عمل
نیپرا سمیت دیگر ریگولیٹری ادارے ان اعداد و شمار کی جانچ کے لیے باضابطہ سماعتیں کرنے جا رہے ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا سیپکو نے نجی صارفین، تجارتی اداروں اور سرکاری محکموں سے بقایا جات کی وصولی کے لیے تمام قانونی اور انتظامی اقدامات کیے تھے یا نہیں۔
اگر آپ اپنے بجلی کے بل وقت پر ادا کرتے ہیں، تو آنے والے ہفتوں میں نیپرا کے فیصلوں اور بجلی کے ٹیرف میں ہونے والی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ غیر وصول شدہ اخراجات کا بوجھ عام صارف پر منتقل ہونے سے آپ کے ماہانہ گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر پڑے گا۔
