لاہور کے میو اسپتال میں رواں ہفتے ریبیز کے مرض میں مبتلا ہو کر ایک 51 سالہ شخص جاں بحق ہو گیا ہے، جس کے بعد لاہور میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے خطرات اور کتے کے کاٹنے کے علاج میں خطرناک تاخیر کے معاملے پر وارننگ جاری کر دی گئی ہیں۔ متاثرہ شخص کو کچھ روز قبل آوارہ کتے نے کاٹا تھا جس کے بعد وہ جان لیوا وائرس کا شکار ہو گیا اور اسپتال میں دم توڑ گیا۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بروقت ویکسین اور مناسب علاج سے اس بیماری سے مکمل بچاؤ ممکن ہے، لیکن شہر کے بڑے سرکاری طبی اداروں میں ایمرجنسی پروٹوکول کی سست روی اور تاخیر سے جان بچانے والی دوائیں فراہم کرنے کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
بروقت علاج میں تاخیر کی سنگین قیمت
جانوروں کے کاٹنے کے واقعے کے بعد ہر گزرتا لمحہ انتہائی قیمتی ہوتا ہے، لیکن لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو اکثر طویل قطاروں اور انتظامی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آوارہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے دھونا ضروری ہے، اور پھر بغیر کسی تاخیر کے اینٹی ریبیز ویکسین (اے آر وی) اور امیونوگلوبلین کا کورس شروع کیا جانا چاہیے۔ بدقسمتی سے، انتظامی پیچیدگیوں، ایمرجنسی وارڈز میں ویکسین کے اسٹاک کی عدم دستیابی اور سست روی کی وجہ سے متاثرہ افراد بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ میو اسپتال میں پیش آنے والا یہ تازہ ترین واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میونسپل ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس جانوروں کے کاٹنے کے انتہائی نوعیت کے کیسز کو ترجیح دینے میں ناکام رہے ہیں۔
آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی بہتات
شہر انتظامیہ طویل عرصے سے رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اندرون شہر کی تنگ گلیوں سے لے کر نئے آباد ہونے والے ہاؤسنگ پراجیکٹس تک، ویکسین سے محروم کتوں کے غول اسکول جانے والے بچوں، پیدदल چلنے والوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے روزانہ کا خطرہ بن چکے ہیں۔ بلدیاتی ادارے وقتاً فوقتاً کتے مار مہم یا ویکسینیشن کے اقدامات کا اعلان کرتے ہیں، لیکن یہ کوششیں عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت اس خطرے سے نبرد آزما ہیں۔
- کسی بھی جانور کے کاٹنے پر زخم کو فوری طور پر کم از کم 15 منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے دھوئیں
- فوری طور پر قریبی بڑے اسپتال، جیسے میو اسپتال یا جناح اسپتال جائیں اور واقعے کی اطلاع دیں
- ڈاکٹروں سے اصرار کریں کہ وہ اینٹی ریبیز ویکسین کی پہلی خوراک اور ضرورت پڑنے پر امیونوگلوبلین فوراً لگائیں
- روایتی ٹوٹکوں، مرچ پودر لگانے یا گھریلو علاج کے چکر میں قیمتی وقت ضائع نہ کریں
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو آوارہ کتے، بلی یا کسی دوسرے جانور نے کاٹ لیا ہے یا خراش دی ہے تو اسے فوری طور پر طبی ایمرجنسی سمجھیں۔ بخار، بے چینی یا پانی سے خوف جیسی علامات ظاہر ہونے کا انتظار ہرگز نہ کریں کیونکہ ایک بار ریبیز کی علامات ظاہر ہو جائیں تو یہ بیماری سو فیصد جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ہنگامی ہیلپ لائن نمبرز اپنے پاس رکھیں، سرکاری اسپتالوں میں فوری ویکسین کی فراہمی کا مطالبہ کریں اور جارحانہ آوارہ جانوروں کے غول کی اطلاع اپنے قریبی ضلعی میونسپل کارپوریشن کے دفتر کو دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
عوامی صحت کے نگران ادارے اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا پنجاب پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ تدریسی اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسینز کے لیے نئے ایس او پیز یا ہنگامی اسٹاک آڈٹ جاری کرتا ہے یا نہیں۔ مقامی حکومتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کتوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو قابو کرنے کے لیے شفاف اور ضلع گیر سطح پر ویکسینیشن مہم کا آغاز کریں تاکہ مزید المناک حادثات سے بچا جا سکے۔ بلدیاتی جواب دہی اور عوامی صحت کے معیارات سے متعلق تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے نیا پاکستان کے ساتھ جڑے رہیں۔
