مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے جمعرات کی شام کو اعلان کیا ہے کہ ربیع الاول کا چاند نظر نہیں آیا، جس کے نتیجے میں پاکستان بھر میں عید میلاد النبی 26 اگست 2025 کو منائی جائے گی۔

اس فیصلے کا اعلان اسلام آباد میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا گیا، جہاں چیئرمین مولانا عبد الخبیر آزاد نے صوبائی کمیٹیوں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد چاند کی رویت کا اعلان کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ربیع الاول کا بارہواں دن، جو عید میلاد النبی کے طور پر منایا جاتا ہے، 26 اگست کو پڑے گا، نہ کہ پہلے متوقع 15 اگست کو۔

چاند کی رویت پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟

پاکستان میں مسلمانوں کے لیے چاند کی رویت اسلامی مہینوں کے آغاز اور اہم مذہبی تقریبات کی تاریخوں کا تعین کرتی ہے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی، جو چاند کی رویت کے لیے ذمہ دار سرکاری ادارہ ہے، صوبائی کمیٹیوں بشمول کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ کی رپورٹس پر انحصار کرتی ہے۔ اگر چاند پچھلے مہینے (اسلامی مہینے صفر) کی 29ویں رات کو نظر نہیں آتا، تو اگلا دن 30واں شمار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد والا دن نئے مہینے کا پہلا دن بن جاتا ہے۔

اس سال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق:

  • عید میلاد النبی 26 اگست 2025 کو ہوگی (12 ربیع الاول)۔
  • آشورا 17 جولائی 2025 کو تھا (10 محرم)۔
  • عید الفطر 2025 11 اپریل کو تھی (شعبان کا چاند دیکھنے کے بعد)۔
  • رمضان 2025 29 فروری کو شروع ہوا (رجب کا چاند دیکھنے کے بعد)۔

اس ہفتے آپ کے لیے کیا تبدیلیاں ہیں؟

اگر آپ نے 15 اگست کو عید میلاد کی تقریبات، جلوسوں یا عوامی پروگراموں میں شرکت کا منصوبہ بنایا تھا، تو آپ کو اپنے شیڈول میں ترمیم کرنی ہوگی۔ بہت سے مساجد، مزاروں اور اسلامی تنظیموں نے پہلے ہی 15 اگست کو پروگراموں کا اعلان کر رکھا تھا، یہ سمجھتے ہوئے کہ چاند نظر آجائے گا۔ اب ان پروگراموں کو 26 اگست کو منتقل کرنا ہوگا۔

  • عوامی چھٹی کا معیار: عید میلاد النبی پاکستان میں سرکاری چھٹی نہیں ہے، لیکن کچھ نجی اداروں اور اسکولوں میں چھٹی کا اعلان ہو سکتا ہے۔ اپنے آفس یا اسکول کی انتظامیہ سے تصدیق کر لیں۔
  • ٹریفک اور سیکیورٹی: لاہور، کراچی اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں عید میلاد کے دن جلوسوں کی وجہ سے ٹریفک میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب جب کہ تاریخ تبدیل ہو گئی ہے، توقع ہے کہ 26 اگست کو ہجوم میں اضافہ ہوگا۔
  • خیرات اور صدقات: بہت سے مسلمان ربیع الاول میں زکوۃ اور خیرات کا اہتمام کرتے ہیں۔ تاریخ میں تبدیلی کا مطلب ہے کہ آپ کے عطیات کے شیڈول میں بھی ترمیم کرنی پڑ سکتی ہے۔

پاکستان میں چاند کی رویت کا عمل کیسے کام کرتا ہے؟

مرکزی رویت ہلال کمیٹی چاند کی رویت کو تصدیق کرنے کے لیے ایک منظم عمل اپناتی ہے:

  1. علاقائی رپورٹس: ہر صوبے کی کمیٹیاں اپنی رپورٹس مرکزی کمیٹی کو جمع کرائیں۔
  2. تصدیق: مرکزی کمیٹی ان رپورٹس کا جائزہ لیتی ہے اور اکثر فلکیاتی ڈیٹا کو ثانوی چیک کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
  3. اعلان: چیئرمین حتمی فیصلہ کا اعلان کرتے ہیں، جسے پھر پورے ملک میں نشر کیا جاتا ہے۔

اس سال کمیٹی نے کوئٹہ، کراچی، لاہور اور پشاور کی رپورٹس پر غور کیا، جہاں چاند کی رویت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ فیصلہ اسلامی اصول کے مطابق ہے کہ مہینہ 29 دن سے کم نہیں ہو سکتا، لہذا اگر چاند نظر نہ آئے تو مہینہ 30 دن کا ہو جاتا ہے۔

آگے کیا کریں؟

اگر آپ کسی پروگرام کا اہتمام کر رہے ہیں یا اس میں شرکت کر رہے ہیں، تو یہ ہیں آپ کے لیے ہدایات:

  • اپنے منصوبوں کو اپ ڈیٹ کریں: عید میلاد سے متعلق کسی بھی پروگرام، جلوس یا اجتماع کو 26 اگست کو منتقل کریں۔
  • مقامی اعلانات چیک کریں: کچھ مساجد اور تنظیمیں الگ اعلانات جاری کر سکتی ہیں، لہذا اپنے مقامی امام یا کمیٹی سے تصدیق کر لیں۔
  • ٹریفک کے لیے تیار رہیں: اگر آپ کسی بڑے شہر میں عید میلاد کے لیے جا رہے ہیں، تو 26 اگست کو ٹریفک میں تاخیر کا امکان ہے، خاص طور پر داتا دربار (لاہور)، عبداللہ شاہ غازی (کراچی) یا بارہ امام (اسلام آباد) جیسے مقامات پر۔
  • خیرات کے اوقات: اگر آپ عطیات کا اہتمام کر رہے ہیں، تو نوٹ کریں کہ بہت سی تنظیمیں ربیع الاول کے پورے مہینے میں چندہ قبول کرتی ہیں، لہذا تاریخ کی تبدیلی سے طویل المدتی منصوبوں پر اثر نہیں پڑے گا۔

اگلی چاند کی رویت کب ہوگی؟

پاکستان میں اگلی اہم اسلامی تاریخ عید الاضحیٰ ہوگی، جو 6 جون 2026 کو متوقع ہے (10 ذی الحج)۔ ذی الحج کا چاند 25 مئی 2026 کو نظر آئے گا، اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی اس کی تاریخ کا اعلان وقت کے قریب کرے گی۔

فی الحال اپنے کیلنڈرز پر 26 اگست 2025 کو نشان لگا لیں اور اپنے منصوبوں کو اس کے مطابق ایڈجسٹ کریں۔ کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہے، اور پاکستان بھر میں عید میلاد النبی اسی تاریخ کو منائی جائے گی۔

---
*کیا آپ کے پاس اسلامی تاریخوں یا چاند کی رویت کے بارے میں کوئی سوال ہے؟ نیچے تبصرے میں پوچھیں، ہم جواب تلاش کرنے میں مدد کریں گے۔