بھارتی اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ rahul gandhi on modi foreign policy کا موجودہ انداز غیر مؤثر ہے، کیونکہ غیر ملکی رہنماؤں کو گلے لگانا اصل سفارت کاری نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے زور دیا کہ موجودہ حکومت قومی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے، خاص طور پر چین کے ساتھ سرحدی تنازعات اور پاکستان و ایران جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر۔

مودی کی خارجہ پالیسی پر سوالات

راہل گاندھی کے حالیہ بیانات نئی دہلی میں جاری اس بحث کو ہوا دیتے ہیں کہ بھارت عالمی سطح پر اپنے تعلقات کو کیسے ترتیب دے رہا ہے۔ کانگریس رہنما کا ماننا ہے کہ غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات کے مظاہرے ایک مضبوط اور طویل مدتی جیو پولیٹیکل فریم ورک کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی حکومت کو چین کے ساتھ سرحدی صورتحال پر شفافیت نہ دکھانے پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

اڈانی تنازعہ اور پارلیمانی بحران

غیر ملکی امور کے علاوہ، راہل گاندھی نے اڈانی گروپ کے معاملے پر بھی حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے امریکہ میں اڈانی کے خلاف کیس بند ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنے کارپوریٹ اتحادیوں کو بچانے کے لیے بھارت کے مفادات کا سودا کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بھارت اس 'سمجھوتہ شدہ' پالیسی کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

دریں اثنا، کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر ملک کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ کھڑگے نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مسائل اور دیگر اہم معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے گریز کر رہی ہے، جو کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سوچ کا بنیادی فرق ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

بھارت میں سیاسی ماحول شدت اختیار کر چکا ہے اور اپوزیشن نے طلبہ پر طاقت کے استعمال اور اڈانی معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کے لیے ان پیش رفتوں کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ پڑوسی ملک کی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ آپ کو پارلیمنٹ کے آئندہ سیشنز پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ اپوزیشن نے حکومت پر انتظامی ناکامی اور کرپشن کے الزامات پر دباؤ برقرار رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔