چار سال قبل 2022 میں انکیتا بھنڈاری کی ہلاکت کے بعد ان کا خاندان اب بھی انصاف کا منتظر ہے۔ پیر کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دہلی میں ان کے والدین سے ملاقات کی اور خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔

گاندھی، جو خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنی آواز اٹھاتے رہے ہیں، نے اس ملاقات کے بعد ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر لکھا، "ہندوستان تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک خواتین کو مردوں کے استعمال کی چیز سمجھنے والی غیر انسانی ذہنیت ختم نہیں ہوتی۔" ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کا سلسلہ جاری ہے۔

انکیتا بھنڈاری، جو 25 سالہ قانون کی طالبہ تھیں، پر ستمبر 2022 میں اتراکھنڈ کے دیہرادون میں مبینہ طور پر جنسی تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے خاندان نے الزام لگایا کہ مقامی پولیس نے ابتدائی طور پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا اور اہم مشتبہ افراد، جن میں ایک مقامی تاجر بھی شامل تھا، کی گرفتاری میں تاخیر کی۔ اس مقدمے کی سماعت میں بار بار تاخیر ہو رہی ہے اور اگلی سماعت 12 اکتوبر 2024 کو دیہرادون کی ضلعی عدالت میں مقرر ہے۔

انکیتا بھنڈاری کے مقدمے میں کیا ہوا؟

- 25 ستمبر 2022: دیہرادون، اتراکھنڈ میں قانون کی طالبہ انکیتا بھنڈاری پر مبینہ طور پر جنسی تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔
- خاندان کے الزامات: ان کے والدین نے الزام لگایا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا اور مشتبہ افراد کی گرفتاری میں تاخیر کی۔
- عوامی احتجاج: بھارت بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں تیز رفتار انصاف اور جنسی تشدد کے مقدموں کی کارروائی میں اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔
- عدالتی تاخیر: اس مقدمے کی سماعت میں کئی بار تاخیر ہوئی ہے۔ اگلی سماعت 12 اکتوبر 2024 کو دیہرادون کی ضلعی عدالت میں ہوگی۔
- راہل گاندھی کی شرکت: کانگریس لیڈر نے خاندان سے کئی بار ملاقات کی ہے، جن میں 2023 میں بھی شامل ہے، تاکہ جوابدہی کا مطالبہ کیا جا سکے۔

یہ مقدمہ اب کیوں اہم ہے؟

راہل گاندھی اور انکیتا بھنڈاری کے خاندان کی یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب بھارت 2023 میں خواتین کے خلاف 4 لاکھ سے زیادہ جرائم کے واقعات کا سامنا کر رہا ہے، جو نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ہیں۔ ایسے اہم مقدمے اکثر خواتین کے تحفظ میں ناکامی کی علامت بن جاتے ہیں۔

گاندھی کے ایکس پر دیے گئے بیان میں 2023 کے تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن کے سروے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں بھارت کو خواتین کے لیے جنسی تشدد اور انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے سب سے خطرناک ملک قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ حکومت نے اس درجہ بندی پر اختلاف کیا ہے، لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ نظام میں بنیادی مسائل—جیسے رپورٹنگ میں کمی، سست تحقیقات اور معاشرتی رویے—اب بھی برقرار ہیں۔

بھنڈاری خاندان کے لیے آگے کیا ہے؟

- خاندان فاسٹ ٹریک کورٹ کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ مقدمے کی کارروائی تیز کی جا سکے۔
- انھوں نے اتراکھنڈ حکومت سے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جو ابھی تک طے نہیں ہوا۔
- قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ آگے چل کر بھارت میں خواتین کے خلاف تشدد کے مقدموں کی کارروائی کے لیے ایک معیار بن سکتا ہے۔

خواتین کی حفاظت کے حوالے سے آپ کو کیا جاننا چاہیے؟

- قانونی اصلاحات: بھارت کا گھریلو تشدد سے خواتین کا تحفظ ایکٹ (2005) اور فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ (2013) (جسے نربھایا ایکٹ بھی کہا جاتا ہے) خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے بڑے مقدموں کے بعد بنائے گئے تھے، لیکن ان کا نفاذ کمزور ہے۔
- پولیس کی کارروائی: مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں صرف 27 فیصد جنسی تشدد کے مقدموں میں سزا ہوتی ہے، جو تاخیر شدہ تحقیقات اور forensic ثبوت کی کمی کی وجہ سے ہے۔
- معاشرتی رویے: آکسفیم انڈیا کے 2022 کے سروے کے مطابق 65 فیصد دیہی مرد کا خیال ہے کہ خواتین اپنے رویے سے تشدد کو اکساتی ہیں۔

پاکستانی قارئین کیا کر سکتے ہیں؟

اگر آپ اس مقدمے یا پاکستان میں اسی طرح کے معاملات پر نظر رکھنا چاہتے ہیں:
- معلومات حاصل کریں: بھارت میں اس مقدمے کی تازہ ترین معلومات کے لیے دی ہندو، انڈین ایکسپریس یا بی بی سی انڈیا پر نظر رکھیں۔
- این جی اوز کی حمایت کریں: تنظیمیں جیسے آنگن ٹرسٹ اور بریک تھرو انڈیا خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے پر کام کر رہی ہیں۔
- اصلاحات کی وکالت کریں: موجودہ قوانین کے بہتر نفاذ اور خواتین کے خلاف تشدد کے مقدموں میں تیز کارروائی کا مطالبہ کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

- 12 اکتوبر 2024: انکیتا بھنڈاری کے مقدمے کی اگلی سماعت۔
- نومبر 2024: بھارت کے این سی آر بی کے 2024 کے جرائم کے اعداد و شمار کی توقع، جو خواتین کے خلاف تشدد کے رجحانات دکھا سکتے ہیں۔
- چلتی ہوئی احتجاج: کارکن 2024 کے عام انتخابات سے پہلے احتجاج کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جس میں جوابدہی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

یہ مقدمہ انصاف میں تاخیر کی ایک دھندلا سی مثال ہے۔ بھنڈاری خاندان جیسے خاندانوں کے لیے، عدالتی کارروائی کا انتظار جاری ہے—جبکہ باقی ملک آگے بڑھ رہا ہے۔