بھارتی سیاست کے اہم رہنما راہل گاندھی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان کی تحریک کا مقصد بدعنوان نظام کو نفرت یا تشدد کے بجائے محبت کی طاقت سے ختم کرنا ہے۔ پریاگ راج کے کے پی گراؤنڈ میں طلباء اور نوجوانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، گاندھی نے زور دیا کہ ان کی مہم 'چھاتروں کی گونج' کا مقصد نوجوانوں کے بنیادی حقوق کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

راہل گاندھی اور بدعنوان نظام کے خلاف جدوجہد

گاندھی نے کہا کہ بھارت کے نوجوانوں کو اس وقت مشکلات کی ایک بڑی دیوار کا سامنا ہے اور بہت سے مواقع ان کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تقسیم کی سیاست کو مسترد کریں اور بدعنوانی کے خلاف متحد ہو کر مثبت تبدیلی لائیں۔ پریاگ راج میں ہونے والا یہ جلسہ کوٹا اور دہرادون میں ہونے والی اسی طرح کی کامیاب ملاقاتوں کا تسلسل ہے، جس کا مقصد طلباء تک براہ راست رسائی حاصل کرنا ہے۔

  • طلباء کے مسائل: طلباء نے الہ آباد یونیورسٹی میں درپیش شدید مسائل کو اجاگر کیا، جس میں فیسوں میں 400 فیصد اضافہ اور ہاسٹل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔
  • انتظامی رکاوٹیں: شرکاء نے بتایا کہ یونیورسٹی کی لائبریری اب صرف 8 گھنٹے کھولی جاتی ہے، جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
  • پولیس تشدد: سیشن کے دوران طالب علم نمائندے صفت فیض نے گاندھی کے سامنے پٹنہ میں طلباء پر ہونے والے مبینہ پولیس تشدد کی تفصیلات بیان کیں۔

نوجوانوں کے درد کا مداوا

گاندھی نے شرکاء کے جذبات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے لیے ترقی کے تمام دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ ان تمام نوجوانوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے جو اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اس جدوجہد کو ایک 'بدعنوان نظام' کے خلاف جنگ قرار دے کر، وہ یونیورسٹی کے طلباء میں بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کو ایک سیاسی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

علاقائی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ کیا 'چھاتروں کی گونج' مہم یونیورسٹی کی سطح پر پالیسی میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ اگر ان جلسوں کا دباؤ الہ آباد یونیورسٹی جیسی تعلیمی اداروں کو فیسوں کے ڈھانچے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرتا ہے، تو یہ خطے کے دیگر تعلیمی مراکز میں بھی طلباء کی تحریکوں کو جنم دے سکتا ہے۔ لائبریری کے اوقات اور فیسوں میں کمی کے مطالبے پر مقامی حکومت کے ردعمل پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ گاندھی کی حکمت عملی کی کامیابی کا امتحان ہوگا۔