پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اتوار 18 اگست 2024 کو بیان دیا کہ حالیہ rainwater drainage projects (نکاسی آب کے منصوبوں) نے شہر میں مون سون کی بارشوں کے دوران صورتحال کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، جن علاقوں میں پہلے ہفتوں تک پانی کھڑا رہتا تھا، وہاں اب پانی چند گھنٹوں میں نکال دیا جاتا ہے۔

نکاسی آب کے منصوبوں کی افادیت

صوبائی حکومت مون سون کے دوران لاہور میں شہری سیلاب کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دباؤ میں رہی ہے۔ مریم نواز نے نشاندہی کی کہ نکاسی آب کے نئے انفراسٹرکچر کی اسٹریٹجک تنصیب اور پمپنگ اسٹیشنوں کو جدید بنانا اس بہتری کی بنیادی وجوہات ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ نچلے علاقوں پر توجہ مرکوز کرکے انہوں نے طویل عرصے تک پانی جمع ہونے کے مسئلے کو قابو کیا ہے جس سے ٹریفک اور املاک کو نقصان پہنچتا تھا۔

  • نشیبی رہائشی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں بہتری۔
  • واسا (WASA) کی ٹیموں کی جانب سے فوری جوابی کارروائی۔
  • صوبائی دارالحکومت میں پمپنگ اسٹیشنوں کی جدید کاری۔

شہری سیلاب کے چیلنجز سے نمٹنا

اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن شہری سیلاب لاہور کے رہائشیوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد ایک ایسا لچکدار نظام بنانا ہے جو شدید موسمی واقعات کے دوران شہر کو مفلوج ہونے سے بچا سکے۔ رہائشیوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں پانی سے بھری سڑکوں پر کم وقت گزارنا پڑے گا اور گھروں کو پہنچنے والے نقصان اور بیماریوں کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔

شہریوں کے لیے ہدایت

اگر آپ لاہور کے کسی نشیبی علاقے میں رہتے ہیں اور پانی کے جمع ہونے یا نکاسی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، تو آپ واسا کی ہیلپ لائن پر براہ راست شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ حکومت نے فیلڈ اسٹاف کو ہدایت کی ہے کہ وہ مون سون کے بقیہ دنوں میں ہائی الرٹ رہیں تاکہ کسی بھی رکاوٹ کو فوری دور کیا جا سکے۔ پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) کی جانب سے جاری کردہ موسم کی تازہ ترین اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں تاکہ شدید بارشوں کے لیے تیار رہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

توقع ہے کہ صوبائی انتظامیہ مون سون کے موسم کے اختتام پر ان منصوبوں کا جامع آڈٹ جاری کرے گی۔ تجزیہ کار یہ دیکھنا چاہیں گے کہ آیا یہ بہتری ریکارڈ توڑ بارشوں کے دوران بھی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ مالی سال 2025 کے لیے بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ بھی موجودہ مون سون سیزن میں ان نکاسی آب کے نظام کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔