بالی ووڈ کے مشہور اداکار راج پال یادو ایک بار پھر بڑی مشکل میں گھر گئے ہیں کیونکہ سینٹرل بینک آف انڈیا نے 16 کروڑ روپے کے قرض کی وصولی کے لیے ان کی جائیدادوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قرض ممبئی کی برانچ سے لیا گیا تھا، جس کی ادائیگی نہ ہونے پر اب بینک نے سخت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

16 کروڑ روپے کے قرض کا معاملہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بھاری قرض راج پال یادو کی اہلیہ رادھا یادو اور ان کی والدہ گوداوری کے نام پر لیا گیا تھا۔ طویل عرصے تک قسطیں ادا نہ ہونے کی وجہ سے بینک نے اب ریکوری کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ بینک حکام نے اداکار کی مختلف جائیدادوں پر نوٹس چسپاں کر دیے ہیں تاکہ ان کی نیلامی کا عمل قانونی طور پر مکمل کیا جا سکے۔

کون سی جائیدادیں خطرے میں ہیں؟

بینک کی جانب سے جن جائیدادوں کو نیلامی کے لیے نشان زد کیا گیا ہے ان میں شاہجہاں پور میں واقع ایک اہم پراپرٹی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اداکار کے آبائی گاؤں میں موجود زرعی زمین اور گھر بھی بینک کی فہرست میں شامل ہیں جنہیں فروخت کر کے قرض کی رقم پوری کی جائے گی۔

راج پال یادو کی ماضی میں بھی مشکلات

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راج پال یادو کو مالی معاملات میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ماضی میں بھی وہ قرض کے تنازعات اور عدالتوں کے چکروں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں۔ اس بار معاملہ کافی سنگین دکھائی دیتا ہے کیونکہ بینک نے جائیدادوں پر براہ راست نوٹس چسپاں کر کے نیلامی کے عمل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اداکار کے لیے اب دو ہی راستے باقی ہیں۔ یا تو وہ 16 کروڑ روپے کی رقم کا بندوبست کر کے بینک کے ساتھ تصفیہ کریں، یا پھر قانونی عدالتوں سے رجوع کر کے نیلامی کے عمل کو رکوانے کی کوشش کریں۔ فی الحال اداکار کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اگر آپ راج پال یادو کے مداح ہیں تو یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا وہ اپنی آبائی جائیدادوں کو بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ بینک کے اس ایکشن نے بھارتی فلم نگری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آخر بڑے اسٹارز اپنے مالی معاملات کو کیوں نہیں سنبھال پاتے۔