بھارتی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب اپوزیشن ارکان نے وزیر داخلہ کی ایوان میں لازمی موجودگی کا سخت مطالبہ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ اہم قومی امور پر بحث کے دوران وزیر کا ایوان میں موجود ہونا ناگزیر ہے تاکہ وہ براہ راست اراکین کے سوالات کے جوابات دے سکیں۔ اس احتجاج کی وجہ سے ایوان کی کارروائی میں کچھ دیر کے لیے تعطل پیدا ہوا اور حکومتی و اپوزیشن benches کے درمیان لفظی جنگ بھی ہوئی۔

چیئرمین راجیہ سبھا کی کرن رجیجو کو ہدایت

اپوزیشن کے اس اصرار پر راجیہ سبھا کے چیئرمین نے مرکزی وزیر کرن رجیجو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپوزیشن کا یہ مؤقف فوری طور پر حکومت تک پہنچائیں۔ چیئرمین نے اراکین کے مطالبات کو سنتے ہوئے حکومتی ترجمان کو ہدایت کی کہ وہ ایوان کے احساسات سے اعلیٰ سطحی قیادت کو آگاہ کریں۔ اس صدارتی مداخلت کے بعد ایوان میں کشیدگی کچھ حد تک کم ہوئی لیکن بحث کا سلسلہ جاری رہا۔

حکومت کا مؤقف اور وزراء کی حاضری کا معاملہ

اپوزیشن کے اس دباؤ کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے واضح کیا کہ یہ پہلے سے طے نہیں کیا جا سکتا کہ کس دن اور کس وقت کون سا وزیر ایوان میں موجود ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزراء کی سرکاری مصروفیت اور کابینہ کے دیگر اہم امور کی وجہ سے ان کے پارلیمنٹ میں حاضری کے اوقات تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ رجیجو نے زور دیا کہ روزانہ کی بنیاد پر وزراء کی حاضری کا حتمی شیڈول بنانا انتظامی لحاظ سے ممکن نہیں ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

سیاسی تجزیہ کار اس پارلیمانی سیشن کے دوران ہونے والی آئندہ کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا حکومتی اتحاد اپوزیشن کے دباؤ کے آگے झुकتے ہوئے وزراء کی حاضری کو یقینی بناتا ہے یا نہیں۔ آپ کو آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر مزید ہنگامہ آرائی اور سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔