وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رানা مشہود احمد خان نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ آنے والے اے جے کے انتخابات کے لیے اپنی تیاریاں تیز کریں اور انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں۔ لاہور میں پارٹی کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رہر ہے اور پولنگ کے دن ہر کارکن کو اپنی ذمہ داریاں انتہائی لگن کے ساتھ پوری کرنی چاہئیں۔
یہ ہدایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سیاسی جماعتیں مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں اپنے سیاسی میدان سجانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ رানা مشہود نے واضح طور پر کارکنوں سے کہا کہ وہ پولنگ سٹیشنوں پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں، مقامی ووٹرز سے رابطہ کریں اور حریف جماعتوں کے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیں۔ حکمران جماعت اس خطے میں مکمل اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی خواہاں ہے۔
نچلی سطح پر متحرک ہونے کی ضرورت
اس مہم کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ ن لیگ کی قیادت چاہتی ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ووٹنگ کا تناسب زیادہ سے زیادہ ہو۔ رানা مشہود نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مضبوط مینڈیٹ حاصل کرنے کے لیے صرف بڑے جلسوں پر انحصار کرنے کے بجائے گھر گھر مہم چلانا اور منظم منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔
لاہور اور اسلام آباد میں پارٹی دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے علاقائی چیپٹرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔ کارکنوں کو واضح احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھیں اور اپنی پوری توجہ انتخابی انتظام پر مرکوز رکھیں۔ اس انتظامی حکمت عملی کا مقصد ان تمام نقائص کو دور کرنا ہے جو اکثر علاقائی پولنگ کے دوران سامنے آتے ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ ایک سیاسی کارکن ہیں یا متعلقہ حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹر ہیں، تو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے شیڈول کی تازہ ترین معلومات سے باخبر رہیں۔ پولنگ کے دن کسی بھی انتظامی دشواری سے بچنے کے لیے اپنی ووٹر رجسٹریشن کی تفصیلات پہلے ہی چیک کر لیں۔ شفاف انتخابی عمل کے لیے شہریوں کی فعال شرکت بہت ضروری ہے۔
- الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آفیشل ایس ایم ایس سروس کے ذریعے اپنے ووٹ کی تصدیق کریں۔
- مقامی انتخابی مہم اور ضابطہ اخلاق کی تازہ کاریوں پر نظر رکھیں۔
- انتخابی قوانین کی کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع متعلقہ مانیٹرنگ سیل کو دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
علاقائی الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کی باضابطہ تاریخوں کے اعلان پر گہری نظر رکھیں۔ سیاسی تجزیہ کار یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں حکمران جماعت کی اس تیز رفتار مہم کا کیا جواب دیتی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور امیدواروں کی حتمی فہرستیں اس خطے کی سیاسی سمت کا تعین کریں گی۔
جیسے جیسے انتخابی مہم تیز ہوگی، توقع ہے کہ مقامی انتظامیہ پولنگ کے عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کرے گی۔ شیڈول کے آگے بڑھنے کے ساتھ ہی انتظامی انتظامات اور امیدواروں کے نامزدگی کے بارے میں مزید تفصیلات بھی سامنے آئیں گی۔
