معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے راولاکوٹ میں چار سو افراد کی ہلاکت کے دعوے کو سراسر پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا کرنے والوں نے پہلے یہ شور مچایا کہ وہاں قتلِ عام ہو چکا ہے، لیکن بعد میں وہی مبینہ لاشیں لوگوں کو چلتی پھرتی نظر آئیں جس سے جھوٹ بے نقاب ہو گیا۔
جعلی بیانیے کا پردہ چاک
حساس علاقوں کے بارے میں غلط اعداد و شمار اور من گھڑت کہانیاں پھیلانا بعض عناصر کا معمول بن چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق عوام میں اشتعال پھیلانے کے لیے جان بوجھ کر فرضی ہلاکتوں کی افواہیں اڑائی گئیں۔ رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ جن افراد کو مرنے والا ظاہر کیا گیا وہ بعد میں زندہ سلامت گھومتے پائے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
اس قسم کی گمراہ کن مہمات کا مقصد صرف معاشرتی بدامنی پھیلانا اور ریاست کے خلاف منفی تاثر دینا ہوتا ہے۔ متعلقہ اداروں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر سنسنی خیز خبر پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں بلکہ مستند ذرائع سے تصدیق کریں۔
شہریوں کے لیے ہدایات
جب آپ کو سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بھی غیر مصدقہ اطلاع ملے، تو آپ کو فوری طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
- کسی بھی خبر کو آگے شیاره کرنے سے پہلے اسے مین اسٹریم میڈیا پر ضرور چیک کریں۔
- واٹس ایپ اور فیس بک پر بغیر تصدیق کے ہلاکتوں کے اعداد و شمار پھیلانے سے گریز کریں۔
- جعلی خبریں پھیلانے والے اکاؤنٹس کی متعلقہ اداروں کو شکایت کریں۔
آئندہ کا منظرنامہ
حکومتی ادارے اس جھوٹی خبر کو پھیلانے والے عناصر کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ سائبر کرائم قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ آنے والے دنوں میں فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیے جانے کا امکان ہے۔
