حکومت کی جانب سے ٹیرف میں دی گئی غیر معمولی چھوٹ کے نتیجے میں پاکستان کی برآمدات میں 1.27 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو دی گئی بریفنگ کے مطابق، گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 160 ارب روپے کے ٹیرف میں کمی کی، جس کا مقصد ملکی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنانا تھا۔
ٹیرف میں کمی کے اثرات
برآمدات میں 1.27 ارب ڈالر کا یہ اضافہ اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کے تحت خام مال اور صنعتی آلات کی درآمد پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا گیا۔ جب صنعتکاروں کو خام مال سستا ملتا ہے تو وہ عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات کی قیمتیں کم رکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ برآمدات میں اضافہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے روپے کی قدر میں گراوٹ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کیا یہ عام آدمی کے اخراجات کم کرے گا؟
سچ یہ ہے کہ اس پالیسی کا براہِ راست فائدہ فی الحال عام صارف کو نہیں پہنچ رہا۔ یہ ریلیف صنعتی شعبے کے لیے ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ برآمدات کر سکیں۔ اس سے اشیائے خوردونوش، بجلی یا پٹرول کی قیمتوں میں فوری کمی متوقع نہیں ہے۔ تاہم، طویل مدت میں اگر پاکستان کا تجارتی خسارہ کم ہوتا ہے تو حکومت پر نئے ٹیکس لگانے کا دباؤ کم ہو سکتا ہے، جو بالواسطہ طور پر عام آدمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل میں کیا دیکھنا چاہیے؟
اگلے مرحلے میں یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ کیا یہ ٹیرف چھوٹ صرف بڑے صنعتی گروپوں تک محدود رہتی ہے یا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو بھی اس کا فائدہ پہنچتا ہے۔ اگر آپ کاروبار سے وابستہ ہیں، تو ایف بی آر (FBR) کی حالیہ نوٹیفیکیشنز پر نظر رکھیں۔ عام شہریوں کے لیے سب سے اہم اشاریہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی تجارتی خسارے کی ماہانہ رپورٹ ہے؛ اگر خسارہ کم ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔
