پاکستان میں تعلیمی نظام ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے، کیونکہ راولپنڈی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) کے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء نے موجودہ تعلیمی ڈھانچے کو فرسودہ اور جدید تقاضوں سے نابلد قرار دیا ہے۔

8 اگست 2026 کو، حالیہ امتحانات میں ٹاپ کرنے والے طلباء نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نظام تنقیدی سوچ کے بجائے صرف رٹا لگانے پر زور دیتا ہے۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ یہ نظام انہیں اعلیٰ تعلیم یا عملی زندگی کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے میں ناکام ہے۔

پاکستان کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟

طلباء کی سب سے بڑی شکایت امتحانی طریقہ کار کے بارے میں ہے۔ برسوں سے، وفاقی اور صوبائی بورڈز کا نظام اس بات پر مبنی ہے کہ طلباء نصابی کتابوں کو جوں کا توں یاد کریں، جس سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔

  • امتحانات میں تجزیاتی سوالات کا فقدان۔
  • پرانی نصابی کتابیں جو جدید سائنسی پیش رفت سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
  • انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں پیشہ ورانہ مہارتوں کی کمی۔

ان طلباء کا کہنا ہے کہ رٹا لگانے کی وجہ سے ان کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور وہ ٹیکنالوجی یا تخلیقی شعبوں میں جانے سے کتراتے ہیں۔

رٹا سسٹم سے آگے بڑھنا

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو نتائج پر مبنی تعلیم (Outcome-based learning) کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔ راولپنڈی بورڈ کے طلباء اب ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور صوبائی محکمہ تعلیم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ امتحانی معیار کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ طلباء کی قابلیت کا اندازہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے لگایا جائے، نہ کہ تاریخیں اور تعریفیں یاد کرنے سے۔

طلباء اب کیا کریں؟

اگر آپ آنے والے بورڈ امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں، تو صرف نصابی کتابوں پر انحصار نہ کریں:

  1. آن لائن پلیٹ فارمز جیسے خان اکیڈمی کا استعمال کریں تاکہ مضامین کے تصورات کو سمجھ سکیں۔
  2. ایسی سرگرمیوں میں حصہ لیں جو تنقیدی سوچ کو فروغ دیں۔
  3. نصاب میں تبدیلیوں کے لیے biserwp.edu.pk پر نظر رکھیں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

وفاقی وزارتِ تعلیم پر ان مطالبات کے بعد دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے ڈیجیٹل امتحانی ٹولز متعارف کرانے کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تبدیلیاں اگلے تعلیمی سال تک نافذ ہو پائیں گی یا نہیں۔