راولپنڈی کے علاقے وارث خان سے 4 سالہ حریم کی پراسرار گمشدگی کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ ریسکیو 1122 کی جانب سے تین روز تک جاری رہنے والا سرچ آپریشن تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا، جس کے بعد ریسکیو حکام نے آپریشن ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب حریم کے اہلخانہ نے بچی کا سراغ دینے یا اس کی بازیابی میں مدد کرنے والے کے لیے 5 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا ہے۔
راولپنڈی میں گمشدہ بچی کی تلاش کا موجودہ منظرنامہ
4 سالہ حریم کی گمشدگی کے بعد ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے علاقے کے نالوں اور قریبی مقامات پر تین دن تک مسلسل سرچ آپریشن کیا۔ افسوسناک طور پر، اس تمام تر کوشش کے باوجود بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ریسکیو آپریشن کے خاتمے کے بعد اب یہ معاملہ مکمل طور پر تھانہ وارث خان کی حدود میں قانونی اور تفتیشی کارروائی کا حصہ بن چکا ہے۔
والدین کے خدشات اور پولیس کی تفتیش
بچی کے والدین شدید صدمے اور کرب میں مبتلا ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق، بچی کے والد کو خدشہ ہے کہ حریم قریبی نالے میں گر گئی ہو سکتی ہے، جبکہ والدہ نے اغوا کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیشی ٹیمیں اس پہلو پر کام کر رہی ہیں کہ آیا بچی راستہ بھٹک گئی یا اسے کسی نے اغوا کیا ہے۔
شہریوں سے اپیل
اہلخانہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس بھی 4 سالہ حریم کے بارے میں کوئی اطلاع ہو تو وہ فوری طور پر پولیس یا اہلخانہ سے رابطہ کرے۔ 5 لاکھ روپے کا انعام ان لوگوں کے لیے رکھا گیا ہے جو بچی کی بازیابی میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ علاقہ مکینوں سے گزارش ہے کہ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں اور کوئی بھی مشکوک سرگرمی نظر آنے پر فوری طور پر مقامی پولیس کو اطلاع دیں۔
آئندہ کے اقدامات
اب تمام تر نظریں تھانہ وارث خان کی تفتیش پر مرکوز ہیں۔ پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور دیگر شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ عوام سے گزارش ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور کسی بھی مصدقہ اطلاع کی صورت میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بچی جلد اپنے والدین تک بحفاظت پہنچ جائے گی۔
