راولپنڈی کے انتہائی حساس اور محفوظ علاقے میں منگل، 27 فروری 2024 کو پیش آنے والا راولپنڈی مال روڈ فائرنگ کا واقعہ، جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ ایک مبینہ کارکن جاں بحق ہو گیا، نے ملک کے اس فوجی ہیڈکوارٹر والے شہر میں عوامی تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ راولپنڈی کی مصروف ترین سڑک پر دن دیہاڑے پیش آیا، جہاں خیبر ضلع کے رہائشی محمد حسین سیکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں مارے گئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ حسین نے پہلے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار زخمی ہوا، جس کے بعد جوابی کارروائی میں وہ مارا گیا۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی نے اس واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عام شہریوں کے لیے یہ صرف ایک سیاسی سرخی نہیں ہے، بلکہ یہ شہر کی سیکیورٹی اور پولیس کے رویے میں ایک ایسی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جو جڑواں شہروں کے باسیوں کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

شہریوں کے لیے واقعے کے اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:
- واقعے کی تاریخ: منگل، 27 فروری 2024
- مقام: مال روڈ، راولپنڈی (انتہائی حساس فوجی اور سرکاری تنصیبات کے قریب)
- ہلاک ہونے والا شخص: محمد حسین، رہائشی ضلع خیبر، خیبر پختونخوا
- زخمی: فائرنگ کے تبادلے میں ایک سیکیورٹی اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا
- سرکاری مؤقف: پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم کا تعلق ایک "مخصوص سیاسی جماعت" سے تھا اور اس نے پہلے فائرنگ کی
- پی ٹی آئی کا مطالبہ: پارٹی نے فائرنگ کے پیچھے چھپے اصل حقائق کو سامنے لانے کے لیے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے

راولپنڈی مال روڈ فائرنگ کے واقعے کے پس منظر کو سمجھیں

اس راولپنڈی مال روڈ فائرنگ کے واقعے کے گرد گھومنے والے حقائق ابھی تک شدید تنازع کا شکار ہیں۔ پولیس کے سرکاری بیان کے مطابق، سیکیورٹی اہلکار منگل، 27 فروری 2024 کو مال روڈ پر معمول کے فرائض انجام دے رہے تھے جب انہوں نے ایک مسلح شخص کو روکا۔ پولیس کا الزام ہے کہ مشتبہ شخص محمد حسین نے اسلحہ نکال کر براہ راست سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کر دی، جس سے ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ جواب میں سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی، جس سے ملزم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔

واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور رپورٹس و