راولپنڈی میں لاپتا بچی کی تلاش کا آپریشن چار روز بعد اس وقت ختم کر دیا گیا جب حکام کو کوئی ٹھوس سراغ نہ مل سکا۔ پانچ سالہ حریم عمیر جمعرات کے روز کمیٹی چوک لنڈا بازار کے قریب سے پراسرار طور پر لاپتا ہوئی تھی، جس کے بعد سے علاقہ مکین اور لواحقین شدید صدمے اور تشویش میں مبتلا ہیں۔
راولپنڈی میں لاپتا بچی کی تلاش کا آپریشن
پولیس اور امدادی ٹیموں نے گزشتہ چار روز سے لنڈا بازار اور کمیٹی چوک کے اطراف میں سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا تھا۔ اس دوران علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ بھی لیا گیا اور مختلف مقامات کی تلاشی لی گئی، تاہم بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ جمعرات کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سے لواحقین مسلسل بچی کی بازیابی کے لیے حکام سے اپیلیں کر رہے ہیں۔
آپریشن کیوں ختم کیا گیا؟
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے آپریشن معطل کرنے کا فیصلہ تب کیا جاتا ہے جب ابتدائی تفتیشی حدود مکمل طور پر چھان لی جائیں اور مزید کوئی واضح سراغ نہ ملے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمینی سرچ آپریشن فی الحال بند کر دیا گیا ہے، لیکن کیس کی تفتیش جاری رہے گی۔ کمیٹی چوک جیسے گنجان آباد علاقے سے بچی کا غائب ہونا مقامی سطح پر سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھاتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کے پاس حریم عمیر کی گمشدگی کے حوالے سے کوئی بھی معلومات ہیں، تو فوری طور پر قریبی تھانے یا پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔ آپ کی معمولی سی معلومات یا جمعرات کے روز دیکھی گئی کوئی مشکوک سرگرمی تفتیش میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں کے بجائے مستند معلومات پولیس تک پہنچائیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟
متاثرہ خاندان کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تفتیش کو مزید تیز کیا جائے اور جدید تکنیکی ذرائع استعمال کیے جائیں۔ عوام کی جانب سے بھی حکام پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پولیس اس کیس کو کسی نئے زاویے سے دیکھتی ہے یا یہ تفتیش محض انٹیلی جنس رپورٹنگ تک محدود رہے گی۔
