راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر محمد آصف کی ڈھوک ہسوں میں کرائے کے کمرے میں بدھ کی رات کو مشکوک حالات میں موت ہو گئی ہے۔ پولیس نے جمعرات کی صبح اس کی تصدیق کی ہے۔

38 سالہ افسر، جو راولپنڈی پولیس کی خصوصی شاخ سے منسلک تھے، کی لاش ان کے کرائے دار نے بدھ کی رات تقریباً 11:30 بجے اندر سے بند دروازے کی وجہ سے پائی۔ پولیس کے پہنچنے پر افسر کی حالت نازک پائی گئی اور ابتدائی طبی معائنہ میں ان کی موت کی تصدیق ہو گئی۔

اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں
- کون: سب انسپکٹر محمد آصف، 38 سال، راولپنڈی پولیس کی خصوصی شاخ سے منسلک
- کہاں: ڈھوک ہسوں، راولپنڈی میں کرائے کا کمرہ
- کب: بدھ کی رات (تقریباً 11:30 بجے)
- کسی نے پتہ چلایا: کرائے دار نے دروازہ بند دیکھا اور اندر داخل ہوئے
- موت کی وجہ: پولیس نے ابھی تک کوئی سرکاری وجہ کا اعلان نہیں کیا; تحقیقات جاری ہیں
- حالت: ڈھوک ہسوں پولیس اسٹیشن میں دفعہ 324 (قتل کی کوشش) کے تحت کیس درج

واقعات کا تسلسل

بدھ کی رات 9 بجے کے قریب، سب انسپکٹر آصف کو ان کے کرائے دار نے زندہ دیکھا تھا۔ کرائے دار نے پولیس کو بتایا کہ افسر کے پاس کوئی زخم یا جھگڑے کے آثار نہیں تھے جب وہ کمرے میں داخل ہوئے۔ آصف پچھلے تین ماہ سے یہ کمرہ کرائے پر لے کر رہ رہے تھے اور عام طور پر اپنی غیر ڈوٹی کے اوقات میں تنہا رہتے تھے۔

11:30 بجے، کرائے دار کرایہ وصول کرنے کے لیے واپس آیا اور دیکھا کہ دروازہ اندر سے بند ہے۔ کئی بار دستک دینے کے بعد بھی کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے دروازہ توڑا اور آصف کو فرش پر لیٹا پایا۔ افسر سانس نہیں لے رہے تھے اور ان کا جسم ٹھنڈا تھا، جیسا کہ کرائے دار نے پولیس کو بتایا۔

پڑوسیوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اس رات کمرے کے قریب کوئی شور یا جھگڑے کی آواز نہیں سنی اور کسی نے بھی کوئی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع نہیں دی۔

پولیس کا ردعمل اور تحقیقات

ڈھوک ہسوں پولیس نے دفعہ 324 کے تحت کیس درج کیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ راولپنڈی پولیس کے جرائم تحقیقاتی محکمہ (سی آئی ڈی) نے کیس اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ایک سینئر افسر نے تصدیق کی ہے کہ اب تک کوئی خودکشی کا خط یا جبری داخلے کے آثار نہیں ملے ہیں۔

جمعرات کی صبح راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں آصف کی پوسٹ مارٹم کی گئی۔ ابتدائی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے جسم پر کوئی زخم نہیں ہیں، لیکن زہریلے مادوں کے نتائج چند دنوں میں آئیں گے۔ پولیس نے قریبی دکانوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کی ہے اور کرائے دار اور پڑوسیوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

تحقیقات کے سامنے اہم سوالات
- کیا موت فطری، حادثاتی تھی یا قتل؟
- کیا افسر کے خلاف کوئی حالیہ جھگڑے یا دھمکیاں تھیں؟
- کیا 9 بجے کے بعد کمرے میں کوئی داخل ہوا یا نکلا؟
- کیا کمرے کے دروازے یا کھڑکیوں سے کوئی چھیڑ چھاڑ کے آثار ہیں؟

سب انسپکٹر محمد آصف کون تھے؟

سب انسپکٹر آصف پچھلے پانچ سال سے راولپنڈی پولیس کی خصوصی شاخ میں خدمات انجام دے رہے تھے، جہاں وہ بنیادی طور پر دہشت گردی اور خفیہ情報 سے متعلق کام کرتے تھے۔ ساتھیوں نے انہیں مخلص افسر قرار دیا ہے جن کے خلاف کوئی ذاتی یا پیشہ ورانہ تنازعات نہیں تھے۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق، آصف کو حال ہی میں کوئی ترقی یا تبادلہ نہیں ہوا تھا اور ان کے خلاف کوئی disciplinary action بھی نہیں تھا۔ ان کا خاندان راولپنڈی میں رہتا ہے اور انہیں اس واقعے کی اطلاع دی گئی ہے۔ خاندان نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

سی آئی ڈی ٹیم سے توقع ہے کہ وہ اگلے 72 گھنٹوں میں اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کریں گے۔ اگر قتل کا شبہ ہو تو کیس کو مزید تحقیقات کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو منتقل کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس افسر کی دہشت گردی مخالف کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

اس کے ساتھ ہی، راولپنڈی پولیس نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ کوئی کसर نہیں چھوڑی جائے گی تاکہ سچ سامنے آ سکے۔ افسر کے خاندان نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اگر آپ کے پاس کوئی معلومات ہو تو کیا کریں؟

اگر آپ کے پاس سب انسپکٹر آصف کی موت سے متعلق کوئی معلومات ہو—چاہے وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو—فوراً مندرجہ ذیل نمبروں پر رابطہ کریں:
- ڈھوک ہسوں پولیس اسٹیشن: 051-111-911-100
- راولپنڈی سی آئی ڈی ہیلپ لائن: 051-9270300
- جرم سٹاپرز پاکستان: 0800-78678 (ٹول فری)

آپ ایف آئی اے کے سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے ذریعے بھی گمنام طریقے سے رپورٹ کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ: https://www.fia.gov.pk/cybercrime

کیا دیکھنا چاہیے

  • زہریلے مادوں کے نتائج: اگلے 3-5 دنوں میں آئیں گے; زہر یا نشے کی موت کا پتہ چل سکتا ہے
  • سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ: اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ کس نے اس وقت کے قریب علاقے میں داخلہ لیا
  • کرائے دار اور پڑوسیوں کے بیانات: مزید پوچھ گچھ سے نئی تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں
  • عدالتی تحقیقات کا مطالبہ: اگر خاندان اس پر زور دیتا ہے تو ایک جج تحقیقات کی نگرانی کر سکتے ہیں

پولیس نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ بے بنیاد اطلاعات یا افواہوں کو پھیلانے سے پرہیز کریں اور زور دیا ہے کہ صرف تحقیقات ہی سچ سامنے لا سکتی ہیں۔

یہ ایک تازہ ترین خبر ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے نئے پاکستان کے ساتھ جڑے رہیں۔