راولپنڈی کے صدر علاقے کے تاجروں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ میں نئے کمرشل پلازوں کی تعمیر کی منظوری دینے سے پہلے پارکنگ کی مناسب سہولیات کو لازمی قرار دیا جائے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پارکنگ کی کمی نے پورے علاقے کو ٹریفک کے مسائل کا گڑھ بنا دیا ہے، جس سے کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
نئی پلازوں کے لیے پارکنگ کی ضرورت کیوں ہے؟
کئی سالوں سے خریدار اور دکاندار صدر میں پارکنگ کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈویلپرز کی جانب سے بغیر پارکنگ کے کمرشل پلازے تعمیر کرنے سے سڑکوں پر گاڑیوں کا رش بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے گاہک اس علاقے کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں۔ تاجروں کے مطابق، اس صورتحال سے مقامی دکانوں کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
- موجودہ صورتحال: نئی کمرشل عمارتوں کے لیے پارکنگ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
- بنیادی تشویش: سڑکوں پر گاڑیوں کی پارکنگ سے ٹریفک کا شدید دباؤ۔
- مجوزہ حل: ڈویلپرز کے لیے عمارت کی منظوری سے پہلے بیسمنٹ یا پارکنگ ایریا مختص کرنا لازمی ہونا چاہیے۔
راولپنڈی کنٹونمنٹ پر اثرات
راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ (RCB) اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ منظوری کے عمل کا ازسرنو جائزہ لیں۔ تاجر برادری کا ماننا ہے کہ اگر پارکنگ کے مسائل حل نہ کیے گئے تو صدر کی انفراسٹرکچر مزید تباہ ہو جائے گی۔ یہ ٹریفک جام نہ صرف شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ ہنگامی حالت میں ایمبولینس اور دیگر گاڑیوں کے لیے بھی رکاوٹ ہے۔
تاجروں اور شہریوں کے لیے اگلا قدم
اگر آپ صدر میں کاروبار کرتے ہیں یا یہاں کے رہائشی ہیں، تو مقامی ٹریڈ یونینز کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ تاجر تنظیمیں حکام کو باقاعدہ عرضداشت پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ آپ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر عمارت سازی کے قوانین میں تبدیلی یا عوامی نوٹسز کے لیے نظر رکھ سکتے ہیں۔
مستقبل میں کیا متوقع ہے؟
کنٹونمنٹ بورڈ کے آئندہ اجلاسوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ڈویلپرز کے لیے پارکنگ کی پالیسی کو سخت کرے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکام کب تک اس مطالبے کو تسلیم کر کے عملی اقدامات کرتے ہیں۔
