حوثی حملوں کے بعد بحری ٹریفک میں نمایاں کمی
حوثی عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز اور باب المندب میں red sea maritime traffic یعنی بحری ٹریفک اچانک اور تشویشناک حد تک کم ہو گئی ہے، جس نے عالمی سپلائی چین کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ شپنگ کا ڈیٹا فراہم کرنے والے معروف ادارے کپلر (Kepler) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، بدھ چار مارچ 2026 کو صرف دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ انتہائی کم تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں تجارتی جہاز رانی کتنی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔
پاکستان جیسی درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ہمارے ملک میں تیل، خوردنی تیل اور صنعتی خام مال کی بڑی کھیپ انہی سمندری راستوں سے آتی ہے۔ جب جنگی صورتحال کی وجہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت رکتی ہے تو شپنگ کمپنیاں فوری طور پر سکیورٹی سرچارجز اور انشورنس کی قیمتیں بڑھا دیتی ہیں۔ اگر آپ کراچی کی بندرگاہ سے درآمدات کرتے ہیں یا فیصل آباد میں صنعت چلاتے ہیں، تو ان رکاوٹوں اور کرایوں میں اضافے کا بوجھ سیدھا آپ کی جیب پر پڑے گا۔
اہم تفصیلات ایک نظر میں
- واقعہ کی تاریخ: بدھ، 4 مارچ 2026
- متاثرہ راستے: آبنائے ہرمز اور باب المندب
- معلومات کا ذریعہ: شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والا ادارہ کپلر
- حالیہ ٹریفک: بدھ کے روز صرف دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے
- پاکستان پر اثر: درآمدی ایندھن کی ترسیل میں تاخیر اور شپنگ لاگت میں اضافہ
پاکستان کے لیے ان بحری گزرگاہوں کی اہمیت
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات اور اشیائے خوردونشش کے لیے مشرق وسطیٰ کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ باب المندب کا خطہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور یورپ جانے والے جہاز یہیں سے گزرتے ہیں۔ دوسری طرف، آبنائے ہرمز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسی خلیجی ریاستوں سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا مرکزی دروازہ ہے۔
جب سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے جہازوں کو کیپ آف گڈ ہোপ کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو کراچی پہنچنے میں ہفتوں کی تاخیر ہو جاتی ہے۔ وزارتِ توانائی اور مقامی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اگر جہاز طویل راستے اختیار کریں گے تو ڈیمریج چارجز بڑھیں گے، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار مقامی ریفائنریز کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟
ایک پاکستانی صارف یا کاروباری شخصیت کے طور پر آپ کو درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
- اسٹاک کو محفوظ بنائیں: اگر آپ بیرون ملک سے خام مال یا مشینری منگواتے ہیں، تو اپنے سپلائرز سے بات کر کے فریٹ ریٹ بڑھنے سے پہلے معاملات طے کر لیں۔
- ایندھن کی قیمتوں پر نظر رکھیں: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے اعلانات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
- متبادل ذرائع تلاش کریں: ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے ایسے مقامی اور علاقائی سپلائرز سے رابطے بڑھائیں جو خطے کے بحران سے کم متاثر ہوتے ہیں۔
آگے کیا ہونے کی توقع ہے؟
آنے والے دنوں میں بین الاقوامی بحری انشورنس کمپنیاں اور میری ٹائم ادارے بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر کے خطے کو ہائی رسک زون قرار دینے سے متعلق اہم فیصلے کریں گے۔ آپ کو وزارتِ بحری امور کے بیانات اور بڑی شپنگ لائنز کی جانب سے کرایوں میں ردوبدل کی اطلاعات پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو مارچ کے آخر تک کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر کارگو ہینڈلنگ میں تاخیر کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
