ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ہی علاقائی ممالک کے مابین سفارتی اور معاشی روابط کی بحالی کی کلید ہے۔

علاقائی سیکیورٹی اور باہمی تعاون

ایران اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اس بات پر اتفاق رائے بڑھ رہا ہے کہ خطے کی سلامتی کی ذمہ داری بنیادی طور پر خود علاقائی ریاستوں کو مل کر ادا کرنی چاہیے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ جب تک خطے کے ممالک خود اپنی سیکیورٹی کے ذمہ دار نہیں بنیں گے، تب تک بیرونی مداخلت کے باعث معاشی اور سفارتی تعلقات میں بہتری لانا مشکل رہے گا۔

علاقائی خودمختاری کی اہمیت

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت انتہائی اہم ہے، کیونکہ اسلام آباد خطے میں تجارت اور توانائی کے منصوبوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ ایران کا یہ موقف کہ خطے کے مسائل کا حل علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔ جب علاقائی ممالک سیکیورٹی کے معاملات میں ہم آہنگ ہوں گے تو تجارتی راہداریوں اور توانائی کے منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں خود بخود ختم ہونا شروع ہو جائیں گی۔

مقامی تجارت پر اثرات

اگر یہ سفارتی بیانات عملی اقدامات میں تبدیل ہوتے ہیں تو اس کے براہ راست اثرات سرحدوں پر بسنے والے تاجروں پر پڑیں گے۔ خطے میں سیکیورٹی کی بہتر صورتحال نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے گی بلکہ سرحد پار آمدورفت میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو بھی کم کرے گی۔ عام شہریوں کے لیے اس کا مطلب توانائی کی بہتر فراہمی اور روزگار کے نئے مواقع کی تلاش ہو سکتی ہے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

آئندہ کچھ عرصے میں ہونے والے سفارتی مذاکرات اور علاقائی کانفرنسوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ایران کی جانب سے 'علاقائی ذمہ داری' کا یہ مطالبہ عملی معاہدوں اور مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک کی شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔