سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی ایک تشویشناک ویڈیو نے پاکستان میں والدین کی لاپرواہی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ایک بار پھر بحث چھڑ دی ہے۔ جشنِ آزادی کی تقریبات کے دوران سامنے آنے والی اس کلپ میں ایک کم عمر بچے کو اسٹیئرنگ سنبھالے ہوئے شدید ٹریفک میں گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صارفین نے اس عمل کو عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گاڑی کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

کم عمر بچوں کے گاڑی چلانے پر شدید عوامی ردعمل

اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان امڈ آیا۔ صارفین نے پولیس اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غفلت کا سخت نوٹس لیا جائے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کم عمر بچے کو گاڑی دینا نہ صرف اس بچے بلکہ سڑک پر چلنے والے دیگر شہریوں اور پیدل چلنے والوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے والدین کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔

  • ٹریفک پولیس کی جانب سے گاڑی کا نمبر ٹریس کر کے فوری کارروائی کا مطالبہ۔
  • بچوں کو گاڑی دینے والے والدین کے خلاف سخت قانونی اقدامات کی ضرورت۔
  • سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی کمزور نفاذ پر عوامی تشویش۔

پاکستان میں ٹریفک قوانین اور قانونی حیثیت

پاکستان کے قوانین کے مطابق کسی بھی نابالغ یا بغیر لائسنس شخص کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا سنگین جرم ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کو اس طرح کی خطرناک حرکت کی اجازت دیتے ہیں، وہ قانونی طور پر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود شہروں میں اس قسم کے واقعات اکثر دیکھنے میں آتے ہیں جن پر بروقت کارروائی صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے۔

شہریوں کو کیا قدم اٹھانا چاہیے

اگر آپ کو سڑکوں پر کوئی کم عمر ڈرائیور یا خطرناک اسٹंट نظر آئے تو اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کریں۔ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر نوٹ کریں، اگر ممکن ہو تو محفوظ طریقے سے ویڈیو یا تصویر بنائیں اور فوری طور پر متعلقہ ٹریفک پولیس کے ہیلپ لائن نمبر یا سوشل میڈیا پورٹلز پر شکایت درج کروائیں۔

آئندہ کیا متوقع ہے

بڑے شہروں کے ٹریفک پولیس حکام کی جانب سے اس واقعے پر ردعمل اور گاڑی کے مالک کی شناخت کے حوالے سے بیانات کا انتظار ہے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے اب شہریوں کی جانب سے سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔