بااقاعدہ ورزش سے دل کے مریضوں میں فالج کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، جس کی تصدیق حال ہی میں ہونے والی طبی تحقیق نے کر دی ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز اریتھمیا یعنی دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے مرض میں مبتلا ہے، تو جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔
ماہرین کافی عرصے سے اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ دل کے مریضوں کے لیے کتنی محنت یا ورزش محفوظ ہے۔ تازہ ترین ڈیٹا نے اس ابہام کو دور کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اعتدال پسند ورزشیں دل کے نظام کو مضبوط کرتی ہیں۔ تحقیق کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ جن افراد میں مطالعے کے دوران یہ بیماری ظاہر ہوئی، انہیں درست نتائج کے لیے اے ایف آئی بی کے گروپ میں شامل کیا گیا تاکہ سائنسی صداقت برقرار رہے۔
دل کی بے قاعدگی اور فالج کا خطرہ
ایٹریل فبریلیشن کی وجہ سے دل کے بالائی خانے باقاعدگی سے دھڑکنے کے بجائے لرزتے ہیں، جس سے خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جب یہ لوتھڑے حرکت کرتے ہوئے دماغ تک پہنچتے ہیں تو فالج کا سبب بنتے ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ماہر امراض قلب اکثر ایسے مریضوں سے ملتے ہیں جو ڈر کی وجہ سے بالکل حرکت نہیں کرتے کہ کہیں دل کی دھڑکن مزید تیز نہ ہو جائے۔ تاہم، سستی اور کاہلی دل کے پٹھوں کو کمزور کرتی ہے اور بلڈ پریشر بڑھاتی ہے۔
معمول کی جسمانی سرگرمی دل کی دھڑکن کو کنٹرول میں رکھتی ہے اور خون کی نالیوں کو لچکدار بناتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو مہنگے جم جانے یا دوڑ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ روزمرہ کی زندگی میں یہ چھوٹی تبدیلیاں کر سکتے ہیں:
- اپنے محلے کے پارک یا گلی میں روزانہ تیس منٹ تک تیز قدموں سے چہل قدمی
- ہفتے میں تین بار ہلکی پھلکی سائیکل چلانا
- تیراکی یا ہلکی اسٹریچنگ کی ورزشیں
- مقامی ہسپتالوں جیسے آغا خان یا پمز کے ماہرین کی زیر نگرانی کارڈیاک ری ہیبیلیٹیشن سیشنز
آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے
کوئی بھی نیا فٹنس پلان شروع کرنے سے پہلے اپنے کارڈیالوجسٹ سے ضرور مشورہ کریں تاکہ دل کی محفوظ رفتار کا تعین کیا جا سکے۔ اگر آپ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہیں، تو ڈاکٹر آپ کی خوراک اور معائنے کا شیڈول دوبارہ دیکھ سکتا ہے۔ پہلے دن سے زیادہ محنت کرنے کے بجائے دس منٹ کی چہل قدمی سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ وقت بڑھائیں۔
ورزش کے دوران چکر آنے، سانس پھولنے یا سینے میں تکلیف کی علامات پر گہری نظر رکھیں۔ اگر ایسی کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوری طور پر ورزش روک دیں اور قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے رجوع کریں۔ طبی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ متحرک رہنا لمبی اور صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔
