ریسکیو 1122 نے شانگلہ میں ایمرجنسی ریسپانس کو بہتر بنانے کے لیے اپنے عملے کی فلاح و بہبود کو کلیدی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر ملک شیر دل خان نے واضح کیا ہے کہ ریسکیو 1122 اب اپنے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور ان کی مجموعی بھلائی پر خصوصی توجہ دے گا۔

ریسکیو 1122 اسٹاف ویلفیئر کی اہمیت

پاکستان کے مشکل جغرافیائی علاقوں میں کام کرنے والے ریسکیورز شدید دباؤ میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ بہتر سہولیات اور ذہنی سکون ہی وہ عوامل ہیں جو ایک ریسکیور کی کارکردگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے بلکہ ہنگامی حالات میں ان کی مستعدی کو برقرار رکھنا بھی ہے۔

  • ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز کے لیے جدید تربیتی پروگرام۔
  • ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے لیے معاونت اور کونسلنگ۔
  • ریسکیو آپریشنز کے دوران اہلکاروں کی حفاظت کے لیے جدید آلات۔

پیشہ ورانہ تربیت اور کارکردگی

شانگلہ جیسے پہاڑی اضلاع میں جہاں قدرتی آفات اور حادثات کا خطرہ زیادہ رہتا ہے، وہاں تربیت یافتہ عملے کی موجودگی انتہائی ضروری ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے سے تجربہ کار عملہ اپنے فرائض بہتر طریقے سے سرانجام دے سکے گا، جس کا براہِ راست فائدہ عوام کو ملے گا۔

شہریوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اگر آپ شانگلہ کے رہائشی ہیں یا یہاں سفر کرتے ہیں، تو یہ اقدام آپ کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔ ایک مطمئن اور اچھی طرح سے تربیت یافتہ ریسکیو ٹیم کسی بھی حادثے کی صورت میں کم وقت میں پہنچ کر قیمتی جانیں بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ نئی حکمت عملی ہنگامی حالات میں رسپانس ٹائم کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

آئندہ کے لائحہ عمل پر نظر

ریسکیو 1122 کی جانب سے مستقبل میں عملے کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ مزید معلومات اور اپ ڈیٹس کے لیے آپ ریسکیو کی آفیشل ویب سائٹ rescue.gov.pk پر وزٹ کر سکتے ہیں۔ حکام کا ارادہ ہے کہ اس ماڈل کو دیگر اضلاع تک بھی پھیلایا جائے تاکہ پورے صوبے میں ایمرجنسی سروسز کا معیار یکساں طور پر بلند ہو سکے۔