پاکستان میں گورننس پر نظرثانی کا دیرینہ بحث ایک بار پھر شروع ہو چکی ہے جب وفاقی وزیر داخلہ نے ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ ہر چند سال بعد، سیاسی حلقوں میں صوبوں کی تقسیم اور نئے یونٹس کے قیام کا نکتہ اٹھایا جاتا ہے تاکہ عوام تک حکومتی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم، ماہرین اور زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ نیا صوبہ بنانے سے عام شہری کی روزمرہ زندگی میں کوئی خاص بہتری نہیں آئے گی جب تک کہ نچلی سطح پر انتظامی ڈھانچہ اور مالیاتی اختیارات درست نہیں کیے جاتے۔

صوبوں کی تقسیم اور انتظامی حقیقتیں

بڑے صوبوں جیسے کہ پنجاب یا سندھ میں انتظامی امور کو سنبھالنا واقعی ایک مشکل ٹاسک ہے، لیکن مسئلہ صرف جغرافیائی وسعت کا نہیں ہے۔ جب تک ضلعی سطح پر بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت کا نظام ختم نہیں ہوتا، نئے یونٹس بھی وہی پرانے مسائل لے کر آئیں گے۔ شہریوں کو بنیادی سہولتیں جیسے صاف پانی، صحت کے مراکز اور تعلیم تک رسائی کے لیے اب بھی ضلعی دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ نئے صوبے بننے سے صرف چند نئی وزارتیں اور اسمبلی کی نشستیں تو بن جائیں گی، لیکن عام آدمی کے ٹیکس کے پیسے پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

مقامی حکومتوں کا فقدان

اصل بحران اس بات کا ہے کہ پاکستان میں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل نہیں کیا گیا۔ آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کے قیام کو لازمی قرار دیتا ہے، مگر صوبائی حکومتیں فنڈز اور اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔ جب تک میئرز اور ضلعی ناظمین کے پاس اپنے علاقوں کے ترقیاتی بجٹ کا اختیار نہیں ہوگا، اس وقت تک اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت سے بیٹھ کر ہونے والے فیصلے کبھی موثر ثابت نہیں ہوں گے۔ عوام کو سڑکوں، گٹروں اور اسکولوں کی بہتری کے لیے ایم پی اے یا وزیر کا محتاج رکھا جاتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

ایک عام شہری کی حیثیت سے آپ کو اس بحث میں الجھنے کے بجائے اپنے علاقے کے منتخب نمائندوں سے مقامی مسائل کا حساب مانگنا چاہیے۔ جب بھی آپ کا بلدیاتی نمائندہ یا کونسلر سامنے آئے، اس سے گلیاں بنوانے، صفائی ستھرا رکھنے اور بنیادی صحت کے مراکز کی کارکردگی پر سوال کریں۔ صوبائی نقشے تبدیل ہونے سے آپ کے گھر کا پانی صاف نہیں ہوگا، بلکہ مقامی سطح پر مضبوط آواز اٹھانے سے ہوگا۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

آنے والے ہفتوں میں اس تجویز پر پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مزید گرما گرم بحث متوقع ہے۔ آپ کو دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا حکومت واقعی نئے یونٹس بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کے نظام کو مالیاتی خودمختاری دینے کا کوئی بل لاتی ہے یا نہیں۔ اصل امتحان یہی ہوگا کہ آیا یہ بحث صرف سیاسی نعرہ بازی ہے یا عملی اصلاحات کا آغاز۔