برطانوی کامیڈین رکی جرویئس نے تصدیق کی ہے کہ وہ اب کبھی بھی گولڈن گلوب ایوارڈز کی میزبانی نہیں کریں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے جو ان کی تقریب میں واپسی کے حوالے سے گردش کر رہی تھیں۔

رکی جرویئس گولڈن گلوب کے دور کا خاتمہ

دی ٹائمز کے ساتھ ایک حالیہ انٹرویو میں، 65 سالہ کامیڈین نے واضح کیا کہ ایوارڈ شو کے اسٹیج پر ان کا وقت مستقل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ جرویئس، جو اپنی بے باک اور تیکھی گفتگو کے لیے مشہور ہیں، نے کہا کہ انہیں اس کردار میں واپس آنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ ناظرین جو فلمی صنعت پر ان کے سخت تبصروں کے عادی تھے، اب انہیں یہ سلسلہ دیکھنے کو نہیں ملے گا۔

انہوں نے میزبانی کیوں چھوڑی؟

اگرچہ جرویئس نے کسی ایک مخصوص وجہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اس فارمیٹ سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ وہ 2010، 2011، 2012، 2016 اور 2020 میں پانچ بار اس تقریب کی میزبانی کر چکے ہیں۔ ان کا انداز ہالی وڈ کے ستاروں کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے مشہور تھا، جس نے ایوارڈ شو کو ایک الگ شناخت دی تھی۔

ہالی وڈ پر اس کے اثرات

بین الاقوامی انٹرٹینمنٹ کے مداحوں کے لیے، رکی جرویئس کی عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ اب ایوارڈ شو سے وہ تناؤ اور دلچسپی ختم ہو جائے گی جس کی وجہ سے یہ تقریب دنیا بھر میں زیر بحث رہتی تھی۔ جرویئس کے بغیر، امکان ہے کہ ایوارڈز کی انتظامیہ اب زیادہ روایتی اور محفوظ انداز اپنائے گی۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ منتظمین ان کی جگہ کسے لاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایوارڈ شوز کی ریٹنگ میں کمی دیکھی گئی ہے، اس لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا وہ کسی نئے میزبان کے ذریعے وہی مقبولیت حاصل کر پاتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال، گولڈن گلوبز کو اپنے سب سے متنازعہ میزبان کے بغیر ایک نئی شناخت تلاش کرنی ہوگی۔