پاکستان میں بے روزگاری کی شرح ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے جس نے لاکھوں گریجویٹس اور ہنر مند افراد کو شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ مہنگائی کے طوفان اور معاشی عدم استحکام کے باعث نجی اور سرکاری شعبوں میں نئی ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
پاکستان میں بے روزگاری کے اصل اسباب
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد اب معاشی ترقی کے بجائے ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔ جب سٹیٹ بینک کی بلند شرح سود اور بجلی و گیس کے مہنگے ٹیرف کے باعث صنعتیں پھیل نہیں پاتیں، تو وہ نئی بھرتیاں کرنا بند کر دیتی ہیں۔ کراچی، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے نوکری کا انتظار اب مہینوں سے بڑھ کر سالوں تک پہنچ چکا ہے۔
- مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ترقی جمود کا شکار ہے۔
- چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اپنے موجودہ ملازمین کی تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔
- اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تنخواہوں میں اضافے سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
نجی شعبہ کیوں بھرتیاں نہیں کر رہا؟
معاشی غیر یقینی صورتحال موجودہ بے روزگاری کی بنیادی وجہ ہے۔ جب کاروباروں کو بجلی کے غیر متوقع بلوں اور ایندھن کی قیمتوں کا سامنا ہو، تو وہ سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمین کو فارغ کرتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں مستقل ملازمتوں کے بجائے عارضی ٹھیکوں پر کام کروانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
مزید برآں، یونیورسٹیوں کی تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایچ ای سی سے منظور شدہ تعلیمی اداروں سے ہر سال ہزاروں ڈگریاں تقسیم ہوتی ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر گریجویٹس کے پاس وہ جدید ہنر نہیں جو آج کی مارکیٹ مانگتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں، تو صرف معیشت کے بہتر ہونے کا انتظار کرنا کافی نہیں ہے۔ آپ کو اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی:
- فوری طور پر اپنے ہنر کو جدید بنائیں: ڈیٹا اینالسٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ یا فری لانس سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں پر توجہ دیں جن سے آپ غیر ملکی کرنسی کما سکیں۔
- نیٹ ورکنگ بڑھائیں: موجودہ دور میں زیادہ تر نوکریاں اشتہار کے بجائے ریفرل کے ذریعے مل رہی ہیں۔ لنکڈ ان جیسی ویب سائٹس کا استعمال کریں۔
- فنی مہارتوں پر توجہ دیں: جنرل ایڈمنسٹریشن کے بجائے ٹیکنیکل کاموں، جیسے اے سی کی مرمت یا جدید زرعی مشینری کی دیکھ بھال، میں روزگار کے مواقع زیادہ ہیں۔
مستقبل پر نظر رکھیں
حکومت کی جانب سے آنے والے مالیاتی فیصلوں پر نظر رکھیں۔ اگر برآمدی شعبے کے لیے ٹیکس میں نرمی کی جاتی ہے، تو آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کمپنیوں میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا جائزہ لیتے رہیں، کیونکہ شرح سود میں کمی ہی نجی سرمایہ کاری کو بحال کرنے کا واحد راستہ ہے۔
