حکومت نے بلوچستان میں 115 ارب روپے کے عالمی بینک کے فنڈڈ سیلاب بحالی منصوبے کو خاموشی سے تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیلاب سے متاثرہ 1 لاکھ 34 ہزار سے زائد تصدیق شدہ خاندان امداد سے محروم ہو گئے ہیں۔
یہ منصوبہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرین کی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ تاہم، سرکاری محکموں کے درمیان ذمہ داریوں کے تبادلے اور مالیاتی تحفظات کے باعث اس منصوبے کے اہداف کو خفیہ طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
عالمی بینک فنڈڈ سیلاب بحالی منصوبہ اور اس کی اہمیت
بلوچستان میں 115 ارب روپے کا عالمی بینک فنڈڈ سیلاب بحالی منصوبہ ان لوگوں کے لیے امید کی کرن تھا جنہوں نے سیلاب میں اپنے گھر اور روزگار کھو دیے تھے۔ منصوبے کی اچانک تبدیلی سے ان ہزاروں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے جنہیں پہلے ہی امداد کے لیے اہل قرار دیا جا چکا تھا۔ مالیاتی شفافیت کے مسائل اکثر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کرنے والے مقامی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔
متاثرین کے لیے اثرات
بلوچستان کے عام شہریوں کے لیے اس منصوبے کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔ 1 لاکھ 34 ہزار سے زائد خاندان جو معاوضے اور تعمیر نو کی امداد کے منتظر تھے، اب شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان براہِ راست ان متاثرین کو نقصان پہنچا رہا ہے جنہیں فوری امداد کی ضرورت تھی۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ یا آپ کا خاندان اس منصوبے کے تحت امداد کے لیے رجسٹرڈ ہے، تو اپنی تصدیقی دستاویزات اور رسیدیں سنبھال کر رکھیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ اعلانات پر نظر رکھیں، کیونکہ وہی اس منصوبے کے مقامی نفاذ کی ذمہ دار ہے۔
آئندہ کے حالات پر نظر
ہم وزارتِ اقتصادی امور کے ردعمل کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ منصوبے میں کتنی کٹوتی کی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا عالمی بینک مزید شرائط عائد کرے گا یا حکومت ان متاثرین کے لیے کوئی متبادل لائحہ عمل پیش کرے گی۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے عالمی بینک کے پروجیکٹ پورٹل کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔
