بدھ، 18 فروری 2026 کو پاکستانی روپے کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل 213ویں سیشن میں بھی بہتری کا سامنا رہا، لیکن دیگر اہم بین الاقوامی کرنسیوں کے سامنے اس کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔ اگرچہ مرکزی بینک کی سخت پالیسیوں اور ترسیلات زر کی وجہ سے مقامی صرافہ مارکیٹ میں گرین بیک دباؤ کا شکار ہے، لیکن عالمی فاریکس مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے یورو، برطانوی پاؤنڈ اور دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ نیچے آ گیا۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے صرافوں اور بینکوں میں اس صورتحال نے عام شہریوں کے لیے درمیانی تجارتی اخراجات کا ایک ملا جلا منظرنامہ پیدا کر دیا ہے۔

کرنسی ایکسچینج ریٹ کی صورتحال

انٹربینک مارکیٹ کی رپورٹس کے مطابق پاکستانی روپیہ ایک بار پھر بدھ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں سبز رنگ میں بند ہوا، جس کے ساتھ ہی ڈالر کے خلاف روپے کی مسلسل بہتری کا ریکارڈ 213 ویں دن میں داخل ہو گیا۔ تاہم، یہ مقامی سنگ میل ان تاجروں کے لیے پوری تصویر پیش نہیں کرتا جو ڈالر کے علاوہ دیگر دائرہ کار میں تجارت کرتے ہیں۔ جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اپنا روزانہ کا بلیٹن جاری کرتا ہے، تو اس میں عالمی کراس ریٹ کی حرکات ظاہر ہوتی ہیں جہاں یورو اور دیگر بڑی کرنسیوں نے ڈالر کے مقابلے میں مضبوطی دکھائی ہے، جس سے روپیہ بھی متاثر ہوا۔

  • انٹربینک سیشن: بدھ، 18 فروری 2026
  • امریکی ڈالر کی لکیر: روپے کی مسلسل بہتری کا 213 واں دن
  • دباؤ کا شکار کرنیسیاں: یورو، برطانوی پاؤنڈ، درہم، سعودی ریال
  • سرکاری ریٹس کا ٹریکر: اسٹیٹ بینک کی آفیشل ویب سائٹ sbp.org.pk پر دستیاب ہے

درآمدات اور بیرون ملک سفر پر اثرات

دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی کمزوری کا آپ کی جیب پر کیا اثر پڑے گا؟ اگر آپ یورپ سے مشینری منگوا رہے ہیں، پاؤنڈ میں قیمتوں والی اشیاء خرید رہے ہیں، یا خلیجی ممالک سے رقوم بھیج رہے ہیں، تو آپ کو مہنگائی کا احساس ہوگا۔ اگرچہ پاکستان میں ہر کوئی صرف امریکی ڈالر کے ریٹ پر بات کرتا ہے، لیکن روزمرہ کے تجارتی بل اکثر یورو یا دیگر کرنسیوں میں طے پاتے ہیں۔ جب وہ کرنسیز عالمی سطح پر مضبوط ہوتی ہیں، تو درآمدی خام مال اور بیرون ملک تعلیمی اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کو آنے والے دنوں میں غیر ملکی کرنسی کی ضرورت ہے، تو صرف ڈالر کے استحکام پر بھروسہ نہ کریں۔ کسی بھی قسم کی ٹرانزیکشن یا ٹریولرز چیک خریدنے سے پہلے تجارتی بینکوں کے روزانہ کے ریٹس ضرور دیکھ لیں۔ درآمد کنندگان کو چاہیے کہ وہ حبیب بینک (HBL) یا نیشنل بینک (NBP) جیسے اداروں کے کارپوریٹ ایڈوائزرز سے رابطہ کریں تاکہ کراس کرنسی کے اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔

مارکیٹ میں آگے کیا دیکھنا ہے

ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا مرکزی بینک آنے والے مالیاتی سہ ماہیوں میں اپنی سخت مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھ پائے گا۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ غیر ملکی ذخائر کے ہفتہ وار اعداد و شمار اور ادارہ شماریات (PBS) کے تجارتی خسارے کے اعداد و شمار پر نظر رکھیں۔ اگر عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں مزید تبدیلی آئی، تو اسٹیٹ بینک کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی۔