وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران دفتر کو وقت سے پہلے بند اور خالی پانے پر پورے عملے کو فوری طور پر معطل اور برطرف کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ اچانک معائنہ 18 مئی 2024 کو کیا گیا، جس نے شدید انتظامی غفلت کو بے نقاب کیا۔ دفتر سرکاری اوقات کار ختم ہونے سے بہت پہلے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے درجنوں شہری شدید گرمی میں باہر انتظار کرنے پر مجبور ہو گئے۔
گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس پر چھاپے کی اہم تفصیلات
- فوری کارروائی: تمام افسران اور عملے کے ارکان کو فوری طور پر معطل اور تبدیل کر دیا گیا۔
- کارروائی کی وجہ: دفتر سرکاری اوقات کار کے دوران بند، خالی اور غیر فعال پایا گیا۔
- تحقیقات کا آغاز: زونل ہیڈ اور عملے کے خلاف اعلیٰ سطحی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
- متبادل اقدامات: وزارت داخلہ نے پاسپورٹ محکمے کو ہدایت کی ہے کہ عوام کی سہولت کے لیے فوری طور پر نیا عملہ تعینات کیا جائے۔
اچانک چھاپہ اور عوامی غم و غصہ
گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس کے اچانک دورے کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا سامنا باہر کھڑے غصے سے بھرے شہریوں سے ہوا۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے دور دراز دیہی علاقوں سے آئے ہوئے سائلین نے شکایت کی کہ عملہ روزانہ وقت سے پہلے چلا جاتا ہے اور شہریوں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔
محسن نقوی نے اس صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کو عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، وہ دفاتر کو تالے لگا کر گھر نہیں جا سکتے۔ انہوں نے فوری طور پر ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو فون کیا اور پورے عملے کو معطل کرنے اور انکوائری رجسٹر کرنے کا حکم دیا۔
یہ سخت فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان بھر میں پاسپورٹ محکمے سے عوامی مایوسی عروج پر ہے۔
ملک بھر میں پاسپورٹ بحران کا پس منظر
گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس کی جلد بندی محض سستی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بڑے قومی بحران کو مزید سنگین بناتی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے لاکھوں پاکستانی پاسپورٹ کے حصول میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس (DGIP) کو درآمدی لیمینیشن پیپر اور جدید پرنٹنگ مشینوں کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے 8 لاکھ سے زائد پاسپورٹ زیر التوا ہیں۔
جہاں شہری پہلے ہی عام پاسپورٹ کے لیے تین سے چار ماہ کا انتظار کر رہے ہیں، وہاں علاقائی دفاتر کا وقت سے پہلے بند ہونا ارجنٹ فیسیں ادا کرنے والے سائلین کے لیے دہرے عذاب سے کم نہیں ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ گوجرانوالہ یا قریبی اضلاع کے رہائشی ہیں اور آپ کو پاسپورٹ بنوانا ہے، تو درج ذیل اقدامات پر عمل کریں:
- آن لائن پورٹل کا استعمال کریں: غیر ضروری چکروں سے بچنے کے لیے اپنی فیس آفیشل "Passport Fee Asaan" موبائل ایپ یا ویب پورٹل کے ذریعے ادا کریں۔
- دفتر کی صورتحال معلوم کریں: گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس جانے سے پہلے تصدیق کر لیں کہ آیا نیا عملہ تعینات ہو چکا ہے۔ آپ علاقائی ہیلپ لائن یا ڈی جی آئی پی کی ویب سائٹ (dgip.gov.pk) سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
- ایگزیکٹو سینٹرز کا رخ کریں: اگر معاملہ انتہائی ارجنٹ ہو، تو لاہور یا سیالکوٹ کے قریبی ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس جانے پر غور کریں، جہاں عملے کی حاضری سخت مانیٹر کی جاتی ہے۔
- اپنی درخواست ٹریک کریں: اپنے 15 ہندسوں کے ٹریکنگ کوڈ کے ذریعے آن لائن درخواست کی صورتحال پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے آپ کا پاسپورٹ تاخیر کا شکار تو نہیں ہوا۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
محسن نقوی کے اس اچانک ایکشن کے بعد توقع ہے کہ پنجاب بھر کے دیگر عوامی دفاتر جیسے نادرا اور لینڈ ریکارڈ اتھارٹیز میں بھی ایسے چھاپے مارے جائیں گے۔
اگلے 48 گھنٹوں میں گوجرانوالہ برانچ میں نئی انتظامی ٹیم کی تعیناتی متوقع ہے۔ مزید برآں، وفاقی حکومت جرمنی سے نئی تیز رفتار پرنٹنگ مشینیں درآمد کر رہی ہے، جس کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ جون 2024 تک ملک بھر میں پاسپورٹ کا بیک لاگ ختم کر دیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس انتظامی صفائی سے عوام کو مستقل ریلیف ملتا ہے یا نہیں۔
