پاکستان میں تنخواہ دار طبقے نے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی سیکٹر کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے، جس سے آئندہ مالی پالیسی کے اعلانات سے قبل گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ اسلام آباد میں 15 مئی 2026 کو جاری کردہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تنخواہ دار طبقے نے انکم ٹیکس کی مد میں 360.5 ارب روپے کا ریکارڈ حصہ ڈالا۔ دوسری جانب، وسیع و عریض پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر، جسے معاشی ماہرین اکثر غیر ٹیکس شدہ یا کم ٹیکس شدہ دولت کا گڑھ قرار دیتے ہیں، کیپٹل گینز، ود ہولڈنگ اور پراپرٹی لین دین کے ٹیکسوں کے ذریعے قومی خزانے میں محض 142.8 ارب روپے جمع کرا سکا۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں لاکھوں باقاعدہ تنخواہ حاصل کرنے والے ملازمین کے لیے یہ شماریاتی تفاوت اس بات کی تصدیق کرتا ہے جو وہ سالوں سے اپنی ماہانہ تنخواہوں میں محسوس کر رہے ہیں۔ ملازمین کو تنخواہ ملنے سے پہلے ہی سورس پر ٹیکس کٹ جانے کی وجہ سے، تنخواہ دار طبقہ ملک کی دستاویز بندی کی مہم میں سب سے زیادہ وفادار اور بوجھ اٹھانے والا گروپ بنا ہوا ہے۔

اہم تفصیلات

- اعلان کی تاریخ: 15 مئی 2026
- تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس حصہ: 360.5 ارب روپے (مالی سال 25-2024)
- پراپرٹی سیکٹر کا ٹیکس حصہ: 142.8 ارب روپے (مالی سال 25-2024)
- ہدف طبقہ: پورے پاکستان میں ٹیکس دہندگان، تنخواہ دار افراد اور رئیل اسٹیٹ کے سرمایہ کار
- ٹیکس ڈیٹا اور فائلنگ چیک کرنے کا سرکاری پورٹل: https://www.fbr.gov.pk
- نیشنل ٹیکس پیئر اسسٹنس ہیلپ لائن: 0800-77227

گھریلو بجٹ پر حقیقی اثرات

لاہور یا فیصل آباد جیسے شہروں میں ماہانہ 150,000 روپے کمانے والے اوسط متوسط طبقے کے فرد کے لیے، بھاری ٹیکس کٹوتی یوٹیوب ٹیرف اور خوراک کی قیمتوں میں مسلسل مہنگائی کو برداشت کرنے کے لیے بہت کم گنجائش چھوڑتی ہے۔ جب پچھلے فنانس بلوں میں انکم ٹیکس سلیبز میں اضافہ کیا گیا تو باقاعدہ ملازمین کی گھر آنے والی خالص تنخواہ میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس، کروڑوں روپے کے پلاٹوں کا کاروبار کرنے والے زمین کے تاجروں اور پراپرٹی ڈویلپرز کو کم ویلیوایشن ٹیبلز اور ان خامیوں کا فائدہ ملا جنہوں نے ان کی کیپٹل گینز کی ذمہ داریوں کو کم کیا۔

معاشی ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ ایف بی آر نے کاغذوں میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا ہے، لیکن نفاذ کا طریقہ کار بڑی حد تک کارپوریٹ آجروں جیسے ود ہولڈنگ ایجنٹس پر انحصار کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا غیر مساوی میدان بناتا ہے جہاں رئیل اسٹیٹ کی غیر دستاویزی نقد معیشت پروان چڑھتی ہے جبکہ دستاویزی اجرت کمانے والے ریاست کا مالیاتی بوجھ اٹھاتے ہیں۔

نیا بجٹ 2027 کے لیے توقعات اور مطالبات

جون 2027 کے اوائل میں شیڈول باضابطہ بجٹ کی پیشکش سے قبل جب آئندہ مالیاتی فریم ورک کی تیاریاں زور پکڑ رہی ہیں، مزدور یونینز، کارپوریٹ ایسوسی ایشنز اور ٹیکس اصلاحاتی ادارے ساختی ریلیف کے لیے جارحانہ انداز میں لابی کر رہے ہیں۔ بنیادی مطالبہ ماہانہ 100,000 سے 500,000 روپے تک کمانے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس سلیبز کی معقولیت ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں رئیل اسٹیٹ کے لین دین کے لیے منصفانہ مارکیٹ ویلیوایشن کا سخت نفاذ ہے۔

ٹیکس ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اگر حکومت کھپت کو دبائے بغیر پائیدار محصول وصولی کا ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے، تو اسے لگژری رئیل اسٹیٹ، بڑے پیمانے پر زراعت اور ریٹیل جیسے کم ٹیکس والے شعبوں کی طرف بوجھ منتقل کرنا ہوگا۔ جو شہری اپنے ان ٹیکس بیانات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں، ود ہولڈنگ سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں یا باضابطہ شکایات درج کرانا چاہتے ہیں، وہ نئے مالیاتی نفاذ کی آخری تاریخ سے پہلے سرکاری پورٹل https://www.fbr.gov.pk پر جا سکتے ہیں یا ہیلپ لائن 0800-77227 پر کال کر سکتے ہیں۔