سام سنگ اپنے پریمیم اسمارٹ فون پورٹ فولیو میں بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہا ہے، اور سامنے آنے والی جدید ترین لیکس کے مطابق کمپنی 2027 تک سام سنگ فولڈ ایبل فونز کی لائن اپ میں 5 نئے فلیگ شپ ڈیوائسز شامل کرنے جا رہی ہے، جن میں پہلی بار کمرشل رول ایبل ڈسپلے ڈیوائس بھی شامل ہوگی۔
جنوبی کوریا سے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق، سام سنگ ڈسپلے اور سام سنگ الیکٹرانکس صرف 기존 'گیکسی زی فولڈ' اور 'زی فلپ' سیریز تک محدود رہنے کے بجائے اپنے فارم فیکٹرز میں تنوع لا رہے ہیں تاکہ چینی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے مقابلے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
لیک ہونے والے 2027 کے سام سنگ فولڈ ایبل فونز کی تفصیلات
صنعتی ذرائع کے مطابق کمپنی سالانہ معمولی تبدیلیوں کے بجائے بالکل نئے ڈسپلے اور ہنج ڈیزائنز کی آزمائش کر رہی ہے۔
لیکس کے مطابق پیش کردہ 5 فلیگ شپ ماڈلز میں یہ شامل ہوں گے:
- ایک جدید فلپ فون جس کی بیرونی اسکرین پہلے سے زیادہ بڑی اور کریز سے پاک ہوگی۔
- ایک ڈوئل ہنج تھری فولڈ (Tri-fold) ٹیبلیٹ ہائبرڈ فون جو کھل کر 10 انچ کی اسکرین بن جائے گا۔
- بک اسٹائل فولڈ سیریز کے دو مختلف ماڈلز جو مختلف قیمتوں کی کیٹیگریز کو ہدف بنائیں گے۔
- ایک موٹرائزڈ رول ایبل اسمارٹ فون جس کا ڈسپلے بٹن دبانے پر دائیں یا بائیں جانب پھیل جائے گا۔
رول ایبل اسکرینز اور ڈسپلے ٹیکنالوجی کی جنگ
فولڈنگ اسکرینز کے بعد رول ایبل ڈسپلے اسمارٹ فونز کا اگلا بڑا مرحلہ ہے۔ فولڈ ہونے والے فونز میں درمیان میں بننے والی کریز کے برعکس، رول ایبل اسکرین ڈیوائس کے اندر ایک موٹرائزڈ ٹریک کے ذریعے سلائیڈ ہو کر باہر نکلتی ہے۔ اگرچہ موٹرولا جیسے برانڈز نے نمائشوں میں اس کے پروٹو ٹائپ دکھائے ہیں، لیکن سام سنگ پہلی کمپنی بننا چاہتی ہے جو واٹر اور ڈسٹ ریزسٹنس کے ساتھ رول ایبل فون بڑے پیمانے پر فروخت کرے۔
تاہم پائیداری ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسکرین کو بار بار رول کرنے سے او ایل ای ڈی (OLED) پینل پر دباؤ پڑتا ہے۔ سام سنگ کے انجینئرز فی الوقت الٹرا تھن گلاس (UTG) کی نئی قسم پر کام کر رہے ہیں تاکہ اسکرین لاکھوں بار سلائیڈ ہونے کے بعد بھی خراب نہ ہو۔
پاکستان میں پی ٹی اے ٹیکس اور روپئے کی قیمت کے اثرات
پاکستانی صارفین کے لیے یہ جدید ترین اسمارٹ فونز غیر ملکی کرنسی کی شرح اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے سنگین ٹیکسوں کے باعث انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
جب یہ فلیگ شپ فونز پاکستان میں داخل ہوں گے تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ٹیکس سلیبز کے مطابق ان کی قیمتیں کافی بڑھ جائیں گی:
- بنیادی قیمت: عالمی مارکیٹ میں فلیگ شپ فولڈ ایبل فونز کی قیمت 1,500 سے 2,000 ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔ موجودہ روپے کی قدر کے مطابق یہ بغیر ٹیکس کے 4 لاکھ 20 ہزار سے 5 لاکھ 60 ہزار روپے بنتی ہے۔
- پی ٹی اے ٹیکس کا بوجھ: 500 ڈالر سے زائد کی ڈیوائسز پر شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کی رجسٹریشن پر 1 لاکھ 15 ہزار سے 1 لاکھ 65 ہزار روپے تک کا پی ٹی اے ٹیکس عائد ہوتا ہے۔
- کل قیمت: کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی مارکیٹوں میں سام سنگ کا نیا تھری فولڈ یا رول ایبل فون 7 لاکھ 50 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔
چونکہ پاکستان میں کراچی میں قائم سام سنگ کی لوکل اسمبلی لائن صرف کم قیمت گیلکسی اے سیریز فونز بناتی ہے، اس لیے فولڈ ایبل ڈیوائسز کو مکمل طور پر تیار شدہ (CBU) کی صورت میں برآمد کرنا پڑتا ہے، جس پر بھاری کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔
نیا فولڈ ایبل فون خریدنے سے پہلے آپ کو کیا کرنا چاہئے؟
اگر آپ پاکستان میں مہنگا فولڈ ایبل یا رول ایبل فون خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان باتوں کا خیال رکھیں:
- پی ٹی اے کی سرکاری منظوری چیک کریں: لاہور کے حفیظ سینٹر یا کراچی کے ٹیکنو سٹی سے غیر تصدیق شدہ یا پچڈ (CPID) فون نہ خریدیں۔ ان ڈیوائسز میں بینکنگ ایپس اور سیکورٹی اپ ڈیٹس کام کرنا بند کر دیتی ہیں۔
- سرکاری وارنٹی حاصل کریں: فولڈنگ اسکرین کی مرمت انتہائی مہنگی ہوتی ہے۔ پاکستان میں گیلکسی زی فولڈ کی اندرونی اسکرین کی تبدیلی وارنٹی کے بغیر 1 لاکھ 80 ہزار روپے سے زائد میں ہوتی ہے۔ ہمیشہ سرکاری ڈسٹری بیوٹر کی وارنٹی والے فون خریدیں۔
- ری سیل ویلیو کو ذہن میں رکھیں: عام گیلکسی ایس سیریز یا آئی فون کے مقابلے میں فولڈ ایبل فونز کی قیمت پہلے ہی سال مقامی مارکیٹ میں 30% سے 40% تک گر جاتی ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آنے والے 12 مہینوں میں سام سنگ کی ان پیکڈ (Unpacked) تقاریب پر نظر رکھیں جہاں رول ایبل ڈسپلے کا ابتدائی ڈیمو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اگلے وفاقی بجٹ میں اسمارٹ فونز پر برآمدی ڈیوٹی کی پالیسی پر نظر رکھیں، کیونکہ ٹیکسوں کا ڈھانچہ ہی طے کرے گا کہ یہ فون عام پاکستانیوں کی پہنچ میں رہیں گے یا صرف مخصوص طبقات تک محدود رہیں گے۔
