سام سنگ زی فولڈ 8 میں اسکرین پر بننے والی لکیر یا کریز (crease) کا مسئلہ طویل عرصے سے صارفین کے لیے پریشانی کا باعث تھا، لیکن اب کمپنی نے اپنی جدید انجینئرنگ کے ذریعے اس کا حل نکال لیا ہے۔
نئے ماڈل میں ڈوئل ٹائٹینیم لیئرز اور ایک خاص قسم کے گھنے ایڈیسو (adhesive) سپورٹ سسٹم کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے اسکرین پر بننے والی تہہ اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ڈیزائن اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ ڈسپلے پینل پر پڑنے والے دباؤ کو بہتر طریقے سے تقسیم کرتا ہے، جس سے اسکرین پر مستقل نشان نہیں پڑتے۔
سام سنگ زی فولڈ 8 کی ڈسپلے ٹیکنالوجی
پرانے ماڈلز میں کریز بننے کی اہم وجہ اسکرین کے کھلنے اور بند ہونے کے دوران پیدا ہونے والا عدم توازن تھا۔ اب اس نئے ڈیزائن میں ٹائٹینیم کی دو تہیں ایک مضبوط ڈھانچے کے طور پر کام کرتی ہیں جو اسکرین کو ہموار رکھتی ہیں۔ ساتھ ہی، گھنی چپکنے والی تہیں اسکرین کو ایک ساتھ حرکت کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے اسکرین کے مڑنے والے حصے پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔
یہ تبدیلی نہ صرف فون کی خوبصورتی بڑھاتی ہے بلکہ اسکرین کی عمر کو بھی طویل کرتی ہے۔ پاکستان جیسے گرم اور گرد و غبار والے ماحول میں، جہاں اسکرین کی پائیداری بہت اہمیت رکھتی ہے، یہ بہتری صارفین کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے کیا تبدیلی ہے؟
اگر آپ نیا فولڈ ایبل فون لینے کا سوچ رہے ہیں، تو اسکرین پر لکیر کا نہ ہونا آپ کے تجربے کو کافی بہتر بنا دے گا۔ یہ فون خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو اپنے فون پر ملٹی ٹاسکنگ کرتے ہیں۔
- دباؤ کی تقسیم: نیا داخلی ڈھانچہ اسکرین پر بننے والے دباؤ کو متوازن رکھتا ہے۔
- مٹیریل سائنس: ٹائٹینیم کا استعمال وزن بڑھائے بغیر مضبوطی فراہم کرتا ہے۔
- بہتر پائیداری: جدید ایڈیسو ٹیکنالوجی اسکرین کو طویل عرصے تک خراب ہونے سے بچاتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگرچہ اب کریز نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اصلی امتحان یہ ہے کہ پاکستان کے موسم میں یہ اسکرین کتنی دیر تک ساتھ دیتی ہے۔ اگر آپ ایک پاور یوزر ہیں، تو کمپنی کی جانب سے اسکرین کی وارنٹی پالیسیوں پر نظر رکھیں۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی عام ہوگی، امید ہے کہ فولڈ ایبل فونز کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی اور یہ عام صارفین کی پہنچ میں بھی آ سکیں گے۔
